LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران امریکی جہازوں کو نشانہ بنائے گا تو اپنے ٹینکرز سے ہاتھ دھونا پڑے گا، روبیو امریکی سینٹرل کمانڈ کا 5 ایرانی خام تیل بردار جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ایرانی بحریہ کا آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی بغیر پائلٹ آبدوز پکڑنے کا دعویٰ حملوں کا جواب: ایران نے امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں کی بارش کردی سعودی کابینہ کا ملکی خود مختاری، قومی سلامتی کے دفاع کے عزم کا اعادہ ایرانی وزیر خارجہ کی امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں پر سخت تنقید امریکا کی ایران کی 27 فضائی کمپنیوں اور دیگر اداروں پر پابندیاں عائد امریکی صدر کا کینیڈا کے ساتھ تجارتی برابری نہ ہونے پر سخت ردعمل 27 ستمبر کا احتجاج اٹل، فیصلے پر نظر ثانی نہیں کر سکتے: بیرسٹر گوہر مسلم لیگ ن صوبوں کے معاملے پر ایک پیج پر ہے، مریم نواز سپانتک چوٹی پر جاں بحق ڈاکٹر اسما مشتاق کی لاہور میں نماز جنازہ ادا حوثیوں کے سعودیہ پر حملوں میں واضح ایرانی ہاتھ نظر آتا ہے: امریکی وزیر خارجہ برطانیہ سمیت بارہ ممالک کا اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان بلاول بھٹو کا محسن نقوی کے سسٹم فیل ہونے کے بیان پر قومی اسمبلی میں بحث کا مطالبہ برطانیہ میں فلائٹ آپریشن متاثر، صدر مملکت کی پرواز تاخیر کا شکار

معرکۂ حق’ کا ایک سال مکمل: پاکستان کی سفارتی ساکھ میں نمایاں اضافہ ہوا، رضوان سعید شیخ

Web Desk

11 May 2026

امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے ‘معرکۂ حق’ کے ایک سال مکمل ہونے پر اپنے خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان خطے میں اپنی دفاعی، سفارتی اور سیاسی حکمتِ عملی کی بنیاد پر استحکام کے ایک اہم عامل کے طور پر ابھرا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس معرکے کے بعد بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی قدر و منزلت اور سفارتی ساکھ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستانی سفیر نے پہلگام واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے فوری طور پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ اس کے برعکس بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے الزامات عائد کیے اور غیر قانونی جارحیت کا ارتکاب کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مسلسل عالمی برادری کو خبردار کرتا رہا ہے کہ جوہری صلاحیت رکھنے والے اس خطے میں کسی بھی قسم کی عسکری مہم جوئی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

رضوان سعید شیخ کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی جارحیت کے باوجود پاکستان نے سیاسی، سفارتی اور عسکری پختگی کا مظاہرہ کیا، جس سے قومی وقار بلند ہوا۔ انہوں نے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پاکستان کے دفاعی اخراجات بھارت کے مقابلے میں بہت کم ہیں، لیکن ہماری اصل طاقت دفاعی صلاحیت، قومی عزم اور عوام کی قوتِ اخوت ہے۔ انہوں نے قیامِ امن کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے فعال کردار کو بھی سراہا، جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔