LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کی اردن میں فوجی اڈے پر کارروائی کے جواب میں ایران پر شدید حملوں کی دھمکی امریکا کو خطے میں محاصرے میں لیا جانا چاہئے: نائب سپیکر ایرانی پارلیمنٹ خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنانے کی ایرانی پالیسی ناکام ہو چکی: انور قرقاش امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں ٹینکر کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا دعویٰ مسترد کردیا اسرائیل اور یونان کے درمیان 3.5 ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ طے سندھ طاس معاہدہ, پاکستان کا عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم عظیم کشمیری رہنما سید علی گیلانی کی آج پانچویں برسی منائی جارہی ہے نیدرلینڈز میں سالانہ ریڈ ہیڈ فیسٹیول، دنیا بھر سے سرخ بالوں والے افراد کی شرکت پٹرول مزید مہنگا، ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 3 پیسے کمی کردی گئی اسحاق ڈار کی ترک ہم منصب یاشار گولر سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال وزیراعظم کی چھٹے ورلڈ نومیڈ گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت، پرتپاک استقبال روس چین ویزا فری نظام مستقل کرنے پر تیار، صدر پوتن کا اعلان روس اور بیلاروس کے صدور کی ملاقات، تجارت اور عالمی امور پر گفتگو بات پکی ہوئی نہ منگنی، بلاول بھٹو بھی جعلی خبروں پر بول پڑے ایل پی جی کی قیمت میں 4 روپے 33 پیسے فی کلو اضافہ

سندھ ہائیکورٹ کی یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک بحال کرنے کیلئے 2 ماہ کی مہلت

Web Desk

7 May 2026

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے سندھ حکومت کو حکم دیا ہے کہ کراچی کی اہم شاہراہ یونیورسٹی روڈ کو دو ماہ کے اندر مکمل طور پر فعال بنایا جائے تاکہ شہریوں کو درپیش ٹریفک مسائل کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

سندھ ہائیکورٹ میں بس تیز رفتار منصوبے کی سرخ لائن کے دوسرے حصے سے متعلق ٹھیکیدار کے دفتر اور مشینری سیل کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد مشینری سیل کرنے کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بس تیز رفتار منصوبہ اکتوبر 2027 تک مکمل ہونے کی توقع ہے، لیکن تعمیراتی کام کے باعث یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کی روانی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔

عدالت کے مطابق یونیورسٹی روڈ کی خستہ حالی کے باعث کراچی کے عوام شدید اذیت کا شکار ہیں، اس لیے حکومت فوری اقدامات یقینی بنائے اور دو ماہ کے اندر سڑک کو مکمل طور پر قابلِ استعمال بنائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ عوامی اور نجی ٹرانسپورٹ کی آمدورفت میں کسی قسم کی رکاوٹ قابل قبول نہیں ہوگی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ سندھ حکومت ضرورت کے مطابق اضافی فنڈز مختص کر سکتی ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ اگر ٹرانس کراچی معاہدے کی مخصوص شقوں کے تحت مشینری اپنے پاس رکھنا چاہے تو وہ تنازع حل کرنے والے بورڈ سے رجوع کرے۔

عدالت نے حکم دیا کہ اگر تیس دن کے اندر بورڈ کوئی فیصلہ نہ دے تو عدالت کے مقرر کردہ کمشنر کی نگرانی میں مشینری درخواست گزار کے حوالے کی جائے گی۔ عدالت نے درخواست گزار کو قانونی کارروائی کا اختیار بھی برقرار رکھا۔

عدالت نے فیصلے کی نقول چیف سیکریٹری سندھ اور سیکریٹری بلدیات سندھ کو بھیجنے کی ہدایت دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔