LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم ’اپنا گھر اسکیم‘: دو ماہ میں منظور شدہ ہاؤسنگ فنانسنگ میں 117 فیصد کا ریکارڈ اضافہ اسلام آباد ہائیکورٹ: راول جھیل کنارے نیول فارمز اور نیول سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دینے کا 2022ء کا فیصلہ کالعدم ریاض: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اہم سائبر سیکیورٹی معاہدے پر دستخط یونٹی فوڈز کے شیئرز میں مبینہ انسائیڈر ٹریڈنگ، ایس ای سی پی کی تحقیقات میں تیزی امیر جماعت اسلامی کا کل ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان بھارت سندھ طاس معاہدے سے متعلق فیصلے کو مسترد نہیں کرسکتا، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نیوی کی میری ٹائم مشق ’سی سپارک 2026‘ کراچی میں شروع بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور بچوں سے بات نہ کروانے کا معاملہ، توہینِ عدالت کی درخواست دائر پاکستان کا کرغزستان کے ساتھ تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار ملک میں کاروباری اوقات کار میں اضافے کی سفارش صدر زرداری سے لندن میں محسن نقوی کی ملاقات، اہم پیغام پہنچایا وزیراعظم شہباز شریف کی بشکیک میں صدارتی محل آمد، گارڈ آف آنر پیش ایف سی بلوچستان ٹریننگ سینٹر خضدار میں بیسک ملٹری ٹریننگ بیچ 76 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ یوم دفاع و شہداء: پشاور کے تعلیمی اداروں میں پاک فوج کے زیراہتمام تقریبات ایئر ڈیفنس نے فضائی حدود میں داخل ہونے والے میزائلوں کو ناکام بنا دیا: اردن

پینٹاگون شاید صدر ٹرمپ کو ایران جنگ کی مکمل تصویر نہیں دکھا رہا، امریکی میڈیا کا انکشاف

Web Desk

29 April 2026

امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ پینٹاگون کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ کی مکمل اور حقیقی تصویر پیش نہیں کی جا رہی۔ رپورٹ کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس نے پینٹاگون کی فراہم کردہ معلومات کی درستگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ جریدے کا دعویٰ ہے کہ جہاں ایک طرف امریکی میزائلوں کے ذخائر میں کمی پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے، وہیں انٹیلی جنس جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ ایران کی فضائیہ کا دو تہائی حصہ اور میزائل لانچ کرنے کی بڑی صلاحیت اب بھی برقرار ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران کی چھوٹی تیز رفتار کشتیاں اور بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت آبنائے ہرمز کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہیں، جبکہ جنگ بندی کے بعد ایران کے 50 فیصد میزائل لانچرز دوبارہ فعال ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیرِ دفاع کی جانب سے صدر کو صرف وہی باتیں بتانا جو وہ سننا چاہتے ہیں، کسی بڑے سیکیورٹی خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔