LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدرِ مملکت نے وزیراعظم کی سفارش پر 3سمریوں کی منظوری دے دی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار 2 روزہ دورے پر چین روانہ افغان طالبان کیخلاف قانونی چارہ جوئی، عالمی عدالتِ انصاف میں مقدمہ تیار مودی کی نااہلی سے بھارت خواتین کیلئے سب سےغیر محفوظ ملک بن گیا پشاور: تہکال پایان میں گھر میں آتشزدگی، میاں بیوی سمیت 6 افراد جاں بحق پنجاب اسمبلی میں پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر تقریب پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق بھارتی میڈیا مولانا فضل الرحمان کے بیان کو پاکستان کیخلاف استعمال کر رہا ہے،طارق فضل چوہدری مراکش کے امریکی صدر کے حمایت یافتہ غزہ بورڈ آف پیس کے معاہدے پر دستخط ایرانی چیمبر کا صدر مسعود پزشکیان سے باضابطہ ملک میں جنگی حالت کا اعلان کرنے کا مطالبہ سعودی شہر ریاض میں گیس سلینڈر کا دھماکا، 6 پاکستانی جاں بحق تہران اور واشنگٹن میں سخت گیر عناصر جنگ کو آگے بڑھا رہے ہیں: عرب میڈیا امریکی ایوان نمائندگان میں اسرائیلی فوجی امداد روکنے کی تجویز مسترد دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کا مسلسل دوسری مرتبہ فائنل میں پہنچنے پر بھرپور جشن جیرڈ کشنر، سٹیو وٹکوف مذاکرات میں مالی فائدے اٹھاتے رہے: جے ڈی وینس کو خفیہ پیغام موصول

پینٹاگون شاید صدر ٹرمپ کو ایران جنگ کی مکمل تصویر نہیں دکھا رہا، امریکی میڈیا کا انکشاف

Web Desk

29 April 2026

امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ پینٹاگون کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ کی مکمل اور حقیقی تصویر پیش نہیں کی جا رہی۔ رپورٹ کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس نے پینٹاگون کی فراہم کردہ معلومات کی درستگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ جریدے کا دعویٰ ہے کہ جہاں ایک طرف امریکی میزائلوں کے ذخائر میں کمی پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے، وہیں انٹیلی جنس جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ ایران کی فضائیہ کا دو تہائی حصہ اور میزائل لانچ کرنے کی بڑی صلاحیت اب بھی برقرار ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران کی چھوٹی تیز رفتار کشتیاں اور بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت آبنائے ہرمز کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہیں، جبکہ جنگ بندی کے بعد ایران کے 50 فیصد میزائل لانچرز دوبارہ فعال ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیرِ دفاع کی جانب سے صدر کو صرف وہی باتیں بتانا جو وہ سننا چاہتے ہیں، کسی بڑے سیکیورٹی خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔