LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار کی زیرصدارت اجلاس، امن کیلیے سفارتی کردارجاری رکھنے کا عزم پنجاب میں لڑکی کی شادی کی عمر کم سے کم 18 سال مقرر، اسمبلی میں بل منظور جنگ بندی کےلیے ایرانی تجاویز امریکاکو موصول، ٹرمپ آج جائزہ لیں گے ایران اورخطے کےمفادمیں جوممکن ہوا کریں گے، روسی صدر کی ایرانی وزیرخارجہ کو یقین دہانی وزیراعظم کا بڑا فیصلہ،پی ایس ایل پلے آف کے تمام میچز میں شائقین کواسٹیڈیم آنے کی اجازت قیمتی پتھروں کی برآمدات بڑھانے کے لیے 3 سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام کا فیصلہ اسٹیٹ بینک کا مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرحِ سود میں 100 بیسز پوائنٹس کا اضافہ پاکستان اور چین کے درمیان 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ملٹی نیشنل جاپانی کمپنی کا ’’میڈان پاکستان‘‘ آٹوپارٹس بنانے کا اعلان اسلام آباد، راولپنڈی سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے افغانستان کی جنوبی وزیرستان میں اشتعال انگیزی، پاک فوج کی بروقت کارروائی میں پوسٹیں تباہ پاکستان کا دورہ نہایت مفید، آج پیوٹن سے ملاقات، پیشرفت کا جائزہ لیں گے: عراقچی سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا ایرانی وزیر خارجہ، روسی صدر سے ملاقات کیلئے سینٹ پیٹرزبرگ پہنچ گئے ایران کی آبنائے ہرمز کھولنے، جنگ کے خاتمے کیلئے نئی تجویز امریکا کو موصول

اسٹیٹ بینک کا مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرحِ سود میں 100 بیسز پوائنٹس کا اضافہ

Web Desk

27 April 2026

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک کی معاشی صورتحال کے پیشِ نظر نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت شرحِ سود میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔
کراچی میں اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کے اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق شرحِ سود میں 100 بیسز پوائنٹس (ایک فیصد) کا اضافہ کیا گیا ہے۔اس اضافے کے بعد بنیادی شرحِ سود 10.5 فیصد سے بڑھ کر 11.5 فیصد ہو گئی ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی کے اعلان کا مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کرنا اور معیشت میں استحکام لانا ہے۔ ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ شرحِ سود میں اس اضافے سے مارکیٹ میں روپے کی گردش کم ہوگی، جس سے قیمتوں میں استحکام آنے کی توقع ہے، تاہم اس سے صنعتوں کے لیے قرضوں کی لاگت میں بھی اضافہ ہوگا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی نے معاشی اشاریوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے تاکہ طویل مدتی معاشی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔