LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم ’اپنا گھر اسکیم‘: دو ماہ میں منظور شدہ ہاؤسنگ فنانسنگ میں 117 فیصد کا ریکارڈ اضافہ اسلام آباد ہائیکورٹ: راول جھیل کنارے نیول فارمز اور نیول سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دینے کا 2022ء کا فیصلہ کالعدم ریاض: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اہم سائبر سیکیورٹی معاہدے پر دستخط یونٹی فوڈز کے شیئرز میں مبینہ انسائیڈر ٹریڈنگ، ایس ای سی پی کی تحقیقات میں تیزی امیر جماعت اسلامی کا کل ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان بھارت سندھ طاس معاہدے سے متعلق فیصلے کو مسترد نہیں کرسکتا، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نیوی کی میری ٹائم مشق ’سی سپارک 2026‘ کراچی میں شروع بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور بچوں سے بات نہ کروانے کا معاملہ، توہینِ عدالت کی درخواست دائر پاکستان کا کرغزستان کے ساتھ تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار ملک میں کاروباری اوقات کار میں اضافے کی سفارش صدر زرداری سے لندن میں محسن نقوی کی ملاقات، اہم پیغام پہنچایا وزیراعظم شہباز شریف کی بشکیک میں صدارتی محل آمد، گارڈ آف آنر پیش ایف سی بلوچستان ٹریننگ سینٹر خضدار میں بیسک ملٹری ٹریننگ بیچ 76 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ یوم دفاع و شہداء: پشاور کے تعلیمی اداروں میں پاک فوج کے زیراہتمام تقریبات ایئر ڈیفنس نے فضائی حدود میں داخل ہونے والے میزائلوں کو ناکام بنا دیا: اردن

اسٹیٹ بینک کا مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرحِ سود میں 100 بیسز پوائنٹس کا اضافہ

Web Desk

27 April 2026

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک کی معاشی صورتحال کے پیشِ نظر نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت شرحِ سود میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔
کراچی میں اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کے اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق شرحِ سود میں 100 بیسز پوائنٹس (ایک فیصد) کا اضافہ کیا گیا ہے۔اس اضافے کے بعد بنیادی شرحِ سود 10.5 فیصد سے بڑھ کر 11.5 فیصد ہو گئی ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی کے اعلان کا مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کرنا اور معیشت میں استحکام لانا ہے۔ ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ شرحِ سود میں اس اضافے سے مارکیٹ میں روپے کی گردش کم ہوگی، جس سے قیمتوں میں استحکام آنے کی توقع ہے، تاہم اس سے صنعتوں کے لیے قرضوں کی لاگت میں بھی اضافہ ہوگا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی نے معاشی اشاریوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے تاکہ طویل مدتی معاشی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔