LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کا بڑا فیصلہ،پی ایس ایل پلے آف کے تمام میچز میں شائقین کواسٹیڈیم آنے کی اجازت قیمتی پتھروں کی برآمدات بڑھانے کے لیے 3 سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام کا فیصلہ اسٹیٹ بینک کا مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرحِ سود میں 100 بیسز پوائنٹس کا اضافہ پاکستان اور چین کے درمیان 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ملٹی نیشنل جاپانی کمپنی کا ’’میڈان پاکستان‘‘ آٹوپارٹس بنانے کا اعلان اسلام آباد، راولپنڈی سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے افغانستان کی جنوبی وزیرستان میں اشتعال انگیزی، پاک فوج کی بروقت کارروائی میں پوسٹیں تباہ پاکستان کا دورہ نہایت مفید، آج پیوٹن سے ملاقات، پیشرفت کا جائزہ لیں گے: عراقچی سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا ایرانی وزیر خارجہ، روسی صدر سے ملاقات کیلئے سینٹ پیٹرزبرگ پہنچ گئے ایران کی آبنائے ہرمز کھولنے، جنگ کے خاتمے کیلئے نئی تجویز امریکا کو موصول واشنگٹن فائرنگ کا ملزم تفتیش میں تعاون نہیں کر رہا، اٹارنی جنرل بلانش پاکستان کا ایران کو تجارتی سہولت دینے کا بڑا فیصلہ، ٹرانزٹ تجارت کی اجازت دہلی ائیرپورٹ پر سوئس ائیر کے طیارے کے انجن میں آگ، 6 مسافر زخمی پی ایس ایل 11: لاہور قلندرز باہر، حیدرآباد کنگز مین پلے آف میں پہنچ گئی

ایران کی آبنائے ہرمز کھولنے، جنگ کے خاتمے کیلئے نئی تجویز امریکا کو موصول

Web Desk

27 April 2026

امریکہ کے ساتھ جاری شدید کشیدگی کے درمیان ایران نے بحران کے حل کے لیے ایک نئی سفارتی تجویز پیش کی ہے، جس میں جنگ کے خاتمے اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ‘آبنائے ہرمز’ کو کھولنے کی پیشکش کی گئی ہے۔ تاہم، اس تجویز کی سب سے اہم شرط جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنا ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق، یہ نئی تجویز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائی گئی ہے۔ اس منصوبے میں تجویز دی گئی ہے کہ:
پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کے بحران اور امریکی ناکہ بندی کے خاتمے پر توجہ دی جائے۔
جنگ بندی کو یا تو طویل مدت کے لیے بڑھایا جائے یا جنگ کے مستقل خاتمے پر اتفاق کیا جائے۔
انتہائی حساس ‘جوہری پروگرام’ سے متعلق مذاکرات کو فی الحال پس پشت ڈال کر مستقبل کے لیے اٹھا رکھا جائے۔
وائٹ ہاؤس نے اس تجویز کی وصولی کی تصدیق کر دی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج وائٹ ہاؤس کے سچوئیشن روم میں اپنی اعلیٰ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی ٹیم کے ساتھ ایک اہم اجلاس کریں گے، جس میں اس ایرانی پیشکش کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے لیے یہ ایک مشکل فیصلہ ہو سکتا ہے۔ اگر وہ جنگ کے خاتمے اور ناکہ بندی ختم کرنے پر راضی ہو جاتے ہیں، تو وہ وہ سیاسی اور سفارتی دباؤ کھو سکتے ہیں جس کے ذریعے وہ ایران کو یورینیم کی افزودگی روکنے اور ذخائر ختم کرنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب، ایرانی قیادت کے اندر بھی اس بات پر اختلافات پائے جاتے ہیں کہ جوہری پروگرام پر کس حد تک سمجھوتہ کیا جائے۔
فی الوقت عالمی برادری کی نظریں وائٹ ہاؤس کے اجلاس پر جمی ہیں، کیونکہ اس فیصلے کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل پر بھی مرتب ہوں گے۔