LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، نوٹیفکیشن جاری ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر میڈیا رپورٹنگ کو غلط قرار دے دیا ازبکستان کی سینٹرم ایئر کا پاکستان کیلئے فضائی آپریشن شروع، پہلی پرواز کراچی پہنچ گئی اسحاق ڈار کا نومنتخب او آئی سی سیکریٹری جنرل سے رابطہ، عہدے سنبھالنے پر مبارکباد سندھ اسمبلی نے سندھ کی تقسیم کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی سندھ کی تقسیم کی بات بھی نہیں کی جاسکتی: مراد شاہ نے قومی اسمبلی کو خبردار کردیا شہباز شریف کا نیپالی سفارتخانے کا دورہ، سیلاب سے ہلاکتوں پر اظہار تعزیت مہمند ڈیم پاکستان کی واٹر، فوڈ اور انرجی سکیورٹی کیلئے اہم قومی منصوبہ ہے: چیئرمین واپڈا یومِ دفاع پر سائبر حملوں کا خدشہ، نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کی اہم ہدایات ٹرمپ اور اماراتی صدر کا ٹیلی فونک رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو امریکی حملوں میں شہید شہریوں کے خون کا حساب لیا جائے گا: پاسداران انقلاب نیتن یاہو کا ایرانی حکومت گرانے کیلئے کام جاری رکھنے کا اعلان پاکستان کی روسی مشرق بعید کے ساتھ تخلیقی معیشت میں تعاون بڑھانے کی تجویز مکہ معاہدہ پاکستان کی سفارتی تاریخ میں اہم سنگ میل ہے: ملک احمد خان سرکاری ہسپتالوں کی سہولیات پر اپوزیشن کی تحریک التوائے کار کثرت رائے سے مسترد

ایرانی وزیر خارجہ کا پاکستانی قیادت سے رابطہ، جنگ بندی امور پر مشاورت

Web Desk

24 April 2026

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں، جن میں خطے کی مجموعی صورتحال، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جنگ بندی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، عباس عراقچی نے پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے علیحدہ علیحدہ گفتگو کی، جس میں خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے مشترکہ سفارتی کوششوں پر زور دیا گیا۔پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے ایک کلیدی ثالث کے طور پر متحرک ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور عسکری قیادت مختلف عالمی دارالحکومتوں سے رابطے میں ہیں تاکہ جنگ کے بادلوں کو چھٹکا کر صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔ اس تناظر میں ایرانی وزیرِ خارجہ کے پاکستان سے رابطے انتہائی اہمیت کے حامل سمجھے جا رہے ہیں۔بات چیت کے دوران عباس عراقچی نے واضح کیا کہ اسرائیلی جارحیت کے باوجود ایران کے تمام ریاستی ادارے مکمل نظم و ضبط اور اتحاد کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایرانی حکومت انتشار اور اندرونی اختلافات کا شکار ہے۔ عراقچی کا کہنا تھا کہ:میدانِ جنگ اور سفارت کاری ایک ہی جنگ کے دو محاذ ہیں اور ان میں مکمل ہم آہنگی ہے۔ایرانی عوام پہلے سے زیادہ متحد ہیں اور قومی اتحاد میں کوئی دراڑ نہیں ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں ایران کے ساتھ ایک “مستقل اور ہمیشہ قائم رہنے والے معاہدے” کی خواہش کا اظہار کیا ہے، تاہم تہران کا موقف ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ کے بجائے اپنے قومی مفادات اور وقار کو مدنظر رکھ کر ہی کوئی فیصلہ کرے گا۔