LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
برطانیہ: 2008کے بعد پیدا ہونے والوں پر تاحیات سگریٹ پر پابندی اسپیس ایکس نے پاکستانی نوجوان کی اے آئی کمپنی 60 ارب ڈالر میں خریدنے کی آفر کردی کراچی میں نوجوان سے ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے ہزاروں ڈالرز لوٹ لیے گئے میرے پاس وقت ہے، ایران کے پاس نہیں، امریکی صدر ٹرمپ کا سخت مؤقف کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز سے مزید دو خالی تیل بردار جہاز گزر گئے امریکی صدر کو جنگ جاری رکھنے کیلئے کانگریس کی منظوری لینے میں ایک ہفتہ رہ گیا پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی میں مزید دو ارکان شامل، نوٹیفکیشن جاری ایرانی سپریم لیڈرشدیدزخمی، ملکی نظم ونسق فوجی جنرل چلارہےہیں،امریکی اخبار کا دعویٰ بھارت خطے میں امن کوششوں کو سبوتاثرکرنے سے بازرہے، پاکستان ایران نے آبنائے ہرمزمیں مزید2جہازوں کو تحویل میں لے لیا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی ہر کشتی کو نشانہ بنایا جائے،ٹرمپ کا امریکی بحریہ کو حکم آبنائے ہرمز میں جہازوں پر عائد فیس سے حاصل پہلی آمدنی سینٹرل بینک میں جمع کرادی گئی،ایران امریکانے بحر ہند میں ایرانی تیل لے جانے والے ایک اور ٹینکر پر قبضہ کرلیا ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع پر وقت کی کوئی قید نہیں، ٹرمپ وزیراعظم شہبازشریف سے چینی سفیر کی ملاقات،پاکستان کی امن کوششوں پر تبادلہ خیال

امریکی صدر کو جنگ جاری رکھنے کیلئے کانگریس کی منظوری لینے میں ایک ہفتہ رہ گیا

Web Desk

23 April 2026

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگ جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے منظوری حاصل کرنے میں صرف ایک ہفتہ رہ گیا ہے۔

قانون کے تحت صدر کانگریس کی اجازت کے بغیر جنگ کا آغاز تو کرسکتا ہے، تاہم اسے ساٹھ دن کے اندر اندر اس کی منظوری لینا لازمی ہوتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس مدت کے اختتام میں اب محدود وقت باقی رہ گیا ہے، جس کے باعث سیاسی دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکا میں جنگ کے حق میں عوامی حمایت تیزی سے کم ہو رہی ہے، جبکہ امریکی فوج نے جنگی اخراجات کیلئے مزید دو سو ارب ڈالرز کی طلب بھی سامنے رکھ دی ہے۔

یاد رہے کہ آٹھ اپریل کو جنگ کے چالیس روز مکمل ہونے کے بعد پاکستان کی ثالثی سے دو ہفتوں کی جنگ بندی عمل میں آئی تھی، تاہم تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ رہا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی میں توسیع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ اسلام آباد میں دوسرے مرحلے کے مذاکرات کیلئے ایران کی جانب سے جواب کی منتظر ہے، تاہم تہران نے تاحال آمادگی ظاہر نہیں کی اور حکام نے امریکی مطالبات اور بحری ناکہ بندی کو بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔