LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
چینی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف، مکمل اعتماد کا اظہار آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی حج فلائٹ آپریشن میں تیزی، مزید 3510 عازمین آج سعودی عرب روانہ ہوں گے امریکا کا تجارتی جہاز پر قبضہ،ایران نے اقوام متحدہ میں شکایت درج کروا دی عالمی سفارت کاری کا مرکز اسلام آباد: ایران امریکہ مذاکرات کے لیے ریڈ زون سیل سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مزید 1 ارب ڈالر کے فنڈز موصول پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر تیزی کا رجحان خیبرپختونخوا کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں: باقر قالیباف ایران سے ہونے والا معاہدہ جلد اور اوباما دور کے معاہدے سے بہتر ہوگا: امریکی صدر اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن مذاکرات جمعرات کو واشنگٹن میں ہوں گے ریڈ زون کے اداروں میں 21 اپریل کو ورک فرام ہوم کا فیصلہ : نوٹیفکیشن جاری ایرانی وفد کا امریکاسے مذاکرات کیلیے اسلام آبادآنے کاامکان، برطانوی نیوزایجنسی ایرانی رہنماعقلمندہیں توایران کا مستقبل تابناک ہوسکتاہے، امریکی صدر مذاکرات سے خطے میں امن کوفروغ ملے گا، ڈارکا ایرانی وزیرخارجہ سے رابطہ

پاکستان میں ایچ آئی وی عام آبادی تک پہنچ گیا، متاثرہ افراد کی تعداد 3 لاکھ 70 ہزار ہوگئی

Web Desk

19 April 2026

اسلام آباد: پاکستان میں ایچ آئی وی کے کیسز میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ مرض مخصوص گروہوں سے نکل کر اب عام آبادی تک پھیل رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق ملک بھر میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً 3 لاکھ 70 ہزار تک پہنچ چکی ہے جبکہ 79 فیصد افراد اپنی بیماری سے لاعلم ہیں، جو صورتحال کو مزید خطرناک بنا رہی ہے۔

سابق وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ بچوں میں بڑھتے ہوئے کیسز صحت کے نظام کی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں، ان کے مطابق اب یہ بیماری عام افراد اور بچوں میں بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔

طبی ماہرین نے غیر محفوظ انجیکشنز اور آلودہ خون کو اس پھیلاؤ کی بڑی وجوہات قرار دیا، جبکہ  بار بار ہونے والے پھیلاؤ کے واقعات نظام صحت کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔

ماہرین صحت نے زور دیا ہے کہ بلڈ بینکوں کی سخت نگرانی، خون کی مکمل جانچ، غیر محفوظ انجیکشنز کے خاتمے اور انفیکشن کنٹرول کے مؤثر اقدامات فوری طور پر کیے جائیں، بصورت دیگر صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔