LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کی فلسطینیوں کو جبری بے دخل کرنے کی مذمت پاکستان خطے میں پائیدار امن و استحکام کا خواہاں ہے، یوسف رضا گیلانی اسحاق ڈار کا ناروے کے ہم منصب ایسپن بارتھ ایدے سے ٹیلی فونک رابطہ پاک بحریہ کی دفاعی صلاحیتوں کا سفر، آپریشن دوارکا سے معرکۂ حق تک پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز میں امریکی آبدوز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ مزار قائد پر گارڈ تبدیلی کی پروقار تقریب، پاک فضائیہ نے فرائض سنبھال لیے خلیج میں امریکی فوجی اڈے برقرار رکھنا قابلِ عمل نہیں رہا: جنرل ڈیوڈ پیٹریاس روس اور یوکرین کے درمیان فضائی حملوں میں مختصر وقفے پر اتفاق پاسداران انقلاب کا امریکی بحری جہازوں اور 3 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو شہیدوں کے شہر لاڑکانہ آمد پر خوش آمدید، بلاول بھٹو 6 ستمبر کا دن یاد دلاتا ہے کہ قوم متحد ہو تو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی: صدر زرداری ایران کا برکس ممالک سے ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کا مطالبہ شادی کی تقریب پر حملے میں استعمال ہتھیار امریکی ساختہ تھے، ایرانی عدلیہ ٹرمپ کے نمائندہ وفد کی روسی صدر سے ملاقات، 3 گھنٹے سے زائد مذاکرات جاری رہے ایران کا خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کیلئے فیصلہ کن اقدامات کا اعلان

لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکا میں مذاکرات پر اتفاق

Web Desk

11 April 2026

امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات سے قبل لبنان اور اسرائیل کے درمیان پہلا باقاعدہ رابطہ ہوا ہے، جس میں دونوں ممالک نے منگل کو امریکہ میں ملاقات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ لبنانی ایوانِ صدر کے مطابق، یہ ابتدائی گفتگو واشنگٹن میں تعینات دونوں ممالک کے سفیروں کے ذریعے ہوئی ہے، جسے حالیہ شدید کشیدگی کے بعد ایک بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی وزارتِ خارجہ میں ہونے والی اس میٹنگ کا بنیادی ایجنڈا جنگ بندی کی شرائط اور باقاعدہ مذاکرات کی تاریخ طے کرنا ہے۔ اس حوالے سے امریکہ اور لبنان نے مشترکہ طور پر اسرائیل سے درخواست کی ہے کہ وہ حزب اللہ پر حملوں میں عارضی وقفہ کرے۔

دوسری جانب، لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دشمن (اسرائیل) نے مذاکرات کے لیے ایران کی جانب سے پیش کردہ شرائط کو “رسوائی” کے ساتھ قبول کر لیا ہے۔ تاہم، واشنگٹن میں متعین اسرائیلی سفیر نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل لبنان اور امریکہ کے سفیروں کے ساتھ میٹنگ پر تو رضامند ہے، لیکن وہ فی الحال حزب اللہ کے ساتھ براہِ راست جنگ بندی پر بات چیت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

مذاکرات کا یہ نیا موڑ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ بندی معاہدے کی دائرہ کار پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ اس سے قبل امریکہ اور اسرائیل کا موقف تھا کہ لبنان، ایران جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے، جبکہ ایران اور یورپی یونین، برطانیہ، فرانس اور آسٹریلیا سمیت کئی عالمی طاقتوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے لبنان کو بھی اس معاہدے کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ منگل کو ہونے والی یہ ملاقات اس ابہام کو دور کرنے اور مستقبل کے امن عمل کی سمت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔