LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران عام ریاست بننے کا فیصلہ کرے تو ترقی کے بڑے مواقع مل سکتے ہیں: مارکو روبیو آئی اے ای اے کے انسپکٹرز ایران کی جوہری تنصیبات کا دورہ کریں گے، ٹرمپ امریکا سے آئندہ مذاکرات اعلیٰ سطح کی کمیٹی کی نگرانی میں ہوں گے: کاظم غریب آبادی گوجرانوالہ دن دیہاڑے لڑکی کو اغوا کرنے کی کوشش اسلام آباد اتوار بازار میں آگ بھڑک اٹھی ایرانی صدر دورہ پاکستان مکمل کرنے کے بعد وطن روانہ وزیراعظم اور ایرانی صدر کی پریس کانفرنس، مشترکہ امن کوششوں کا اعادہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ‘سی پی ایس پی’ کی جانب سے اعزازی فیلوشپ ڈگری سے نواز دیا گیا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن کی بڑی کامیابی ہے: وزیراعظم لبنان اور اسرائیل میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز، واشنگٹن میں مذاکرات کا پانچواں دور شروع اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس، اسپیکر قومی اسمبلی کے رویے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور، بجٹ مسترد پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس، چار بلز کی منظوری پاکستان اور ایران کا برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ فیلڈمارشل سے ایرانی صدر کی ملاقات، علاقائی استحکام کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا

گوگل کے سی ای او کا اے آئی میں بڑھتی سرمایہ کاری پر گہری تشویش کا اظہار

Web Desk

22 November 2025

الفابیٹ انکارپوریٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سندر پچائی نے مصنوعی ذہانت (AI) میں تیزی سے بڑھتی سرمایہ کاری پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پچائی نے کہا کہ موجودہ صورتحال واضح طور پر سرمایہ کاری کی زیادتی کی جانب بڑھ رہی ہے، اور اگر AI کا معاشی ببل پھٹ گیا تو کوئی بھی کمپنی محفوظ نہیں رہے گی۔ انہوں نے موجودہ دور کا موازنہ انٹرنیٹ کے ابتدائی برسوں سے کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ڈاٹ کام دور میں غیر پائیدار سرمایہ کاری کے باوجود بنیادی ٹیکنالوجی نے خود کو انقلابی ثابت کیا، ویسے ہی AI میں بھی حقیقی جدت اور غیر حقیقی توقعات اکٹھے موجود ہیں۔

پچائی نے مزید کہا کہ آج کوئی انٹرنیٹ کی اہمیت پر سوال نہیں اٹھاتا، اور وہ سمجھتے ہیں کہ AI بھی بالآخر اپنی افادیت ثابت کرے گا۔ موجودہ AI بوم میں قیاسی رویہ بھی شامل ہے جو ڈاٹ کام دور میں دیکھا گیا تھا۔ وہ بڑھتی ہوئی کمپنی ویلیوایشنز، AI چِپس اور انفراسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کاری کو ممکنہ خطرہ قرار دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق AI پر مرکوز کمپنیوں کی مالیت کھربوں ڈالرز تک پہنچ چکی ہے، جبکہ حقیقی آمدنی اور عملی نتائج اس رفتار سے ہم آہنگ نہیں۔ الفابیٹ کی اپنی ویلیو بھی اس رجحان سے متاثر ہوئی ہے اور اس کے شیئرز رواں سال تقریباً 46 فیصد بڑھ چکے ہیں، کیونکہ سرمایہ کار اس کی AI توسیع پر اعتماد کر رہے ہیں۔

پچائی نے یہ بھی اعتراف کیا کہ بڑے پیمانے پر AI ماڈلز کی ٹریننگ اور ڈیٹا سینٹرز کی توسیع توانائی کی کھپت میں اضافہ کر رہی ہے، جس سے ماحولیاتی اہداف متاثر ہو رہے ہیں اور بجلی کے وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ AI ببل پھٹنے کی صورت میں کوئی بھی کمپنی مکمل طور پر محفوظ نہیں، حتیٰ کہ گوگل بھی نہیں۔

ماہرین کے مطابق پچائی کا انتباہ ٹیکنالوجی انڈسٹری کے لیے اہم پیغام رکھتا ہے کہ سرمایہ کاری اور حقیقی نتائج کے درمیان بڑھتا ہوا فرق مستقبل میں بڑے جھٹکوں کا باعث بن سکتا ہے، اور متعدد اداروں کو اپنی حکمت عملی، بجٹ اور نتائج کے تخمینوں کا ازسرِنو جائزہ لینا ہوگا۔