LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر عملدرآمد کیلئے کردار ادا کرے گا: دفتر خارجہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے قومی اسمبلی میں بجٹ کی منظوری کا عمل آج باضابطہ طور پر شروع ہوگا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران سے مذاکرات کیلئے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بینظیر بھٹو کی آج 73 ویں سالگرہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکہ ایران تکنیکی سطح کے مذاکرات آج سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے میناب کے مظلوم بچوں اور شہدا کو اپنے طرزِ عمل کا گواہ سمجھتے ہیں، باقر قالیباف اسحاق ڈار مصر پہنچ گئے، علاقائی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کریں گے امریکا ایران مذاکرات کل شروع ہونے کا امکان، صورتحال بہتر ہونے کا دعویٰ محسن نقوی کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات، امریکا سے معاہدے کی صورتحال پر گفتگو گھروں پر ٹاور لگانے والا بل جاہلانہ اور غاضبانہ ہے: حافظ نعیم الرحمان پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان 70 کروڑ ڈالر کے قرض پروگرام پر دستخط رانا ثنااللہ نے وزیراعظم کی تبدیلی بارے خبریں بے بنیاد قرار دے دیں ڈیمو کریٹس کو سمجھنا چاہیے کہ ہم نے ایران جنگ میں کتنی بڑی کامیابی حاصل کی:ٹرمپ بھارت کی آزاد کشمیر میں امن تباہ کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی: خواجہ آصف

اسرائیل بھی عارضی جنگ بندی پر آمادہ، ایران پر بمباری روکنے کا اعلان

Web Desk

7 April 2026

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق اسرائیل نے بھی عارضی جنگ بندی پر اتفاق کرتے ہوئے ایران کے خلاف بمباری روک دی ہے اور مذاکراتی عمل میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہو رہی ہیں اور اب مختلف فریقین بات چیت کی میز پر آ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی جنگ بندی میں دو ہفتوں کی توسیع کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد خطے میں حالات میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔

امریکی صدر نے ایران کو دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے محض کچھ وقت پہلے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا اور سفارتی حل کو موقع دینا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے پُرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں اور جلد مثبت نتائج سامنے آنے کی توقع ہے۔