LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کی فلسطینیوں کو جبری بے دخل کرنے کی مذمت پاکستان خطے میں پائیدار امن و استحکام کا خواہاں ہے، یوسف رضا گیلانی اسحاق ڈار کا ناروے کے ہم منصب ایسپن بارتھ ایدے سے ٹیلی فونک رابطہ پاک بحریہ کی دفاعی صلاحیتوں کا سفر، آپریشن دوارکا سے معرکۂ حق تک پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز میں امریکی آبدوز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ مزار قائد پر گارڈ تبدیلی کی پروقار تقریب، پاک فضائیہ نے فرائض سنبھال لیے خلیج میں امریکی فوجی اڈے برقرار رکھنا قابلِ عمل نہیں رہا: جنرل ڈیوڈ پیٹریاس روس اور یوکرین کے درمیان فضائی حملوں میں مختصر وقفے پر اتفاق پاسداران انقلاب کا امریکی بحری جہازوں اور 3 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو شہیدوں کے شہر لاڑکانہ آمد پر خوش آمدید، بلاول بھٹو 6 ستمبر کا دن یاد دلاتا ہے کہ قوم متحد ہو تو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی: صدر زرداری ایران کا برکس ممالک سے ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کا مطالبہ شادی کی تقریب پر حملے میں استعمال ہتھیار امریکی ساختہ تھے، ایرانی عدلیہ ٹرمپ کے نمائندہ وفد کی روسی صدر سے ملاقات، 3 گھنٹے سے زائد مذاکرات جاری رہے ایران کا خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کیلئے فیصلہ کن اقدامات کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے یورینیم نکالنے کیلئے فوجی آپریشن پر غور

Web Desk

30 March 2026

واشنگٹن/نیویارک: امریکی اخبارات وال اسٹریٹ جرنل اور نیویارک ٹائمز نے اپنی حالیہ رپورٹس میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جوہری تنصیبات سے افزوده یورینیم نکالنے کے لیے ایک انتہائی پیچیدہ اور بڑے فوجی آپریشن پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس مشن کا بنیادی مقصد اصفہان کی جوہری تنصیبات سے تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ وزنی یورینیم حاصل کرنا ہے تاکہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس ماہ کے اوائل میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ اصفہان کے پہاڑوں کے اندر جوہری مواد چھپایا گیا ہے، جسے ضبط کر کے تباہ کرنے کے لیے امریکی فوجی دستوں کو کئی دنوں یا اس سے بھی طویل عرصے تک ایران میں قیام کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس آپریشن کے دائرہ کار میں نہ صرف جوہری تنصیبات بلکہ جزیرہ خارگ اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کا تحفظ بھی شامل ہو سکتا ہے تاکہ تیل کی ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

اگرچہ صدر ٹرمپ نے تاحال اس پر حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی بھی اقدام خطے میں ایک بڑی جنگ کو جنم دے سکتا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ ٹرمپ ایرانی تیل پر کنٹرول حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، جبکہ دوسری جانب پاکستان کے ذریعے ثالثی اور مذاکرات کی کوششوں میں بھی کچھ پیش رفت کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ تاہم، عسکری ذرائع نے متنبہ کیا ہے کہ یہ آپریشن خطرات سے بھرپور اور تزویراتی (Strategic) لحاظ سے انتہائی مشکل ہوگا۔