LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان خطے میں پائیدار امن و استحکام کا خواہاں ہے، یوسف رضا گیلانی اسحاق ڈار کا ناروے کے ہم منصب ایسپن بارتھ ایدے سے ٹیلی فونک رابطہ پاک بحریہ کی دفاعی صلاحیتوں کا سفر، آپریشن دوارکا سے معرکۂ حق تک پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز میں امریکی آبدوز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ مزار قائد پر گارڈ تبدیلی کی پروقار تقریب، پاک فضائیہ نے فرائض سنبھال لیے خلیج میں امریکی فوجی اڈے برقرار رکھنا قابلِ عمل نہیں رہا: جنرل ڈیوڈ پیٹریاس روس اور یوکرین کے درمیان فضائی حملوں میں مختصر وقفے پر اتفاق پاسداران انقلاب کا امریکی بحری جہازوں اور 3 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو شہیدوں کے شہر لاڑکانہ آمد پر خوش آمدید، بلاول بھٹو 6 ستمبر کا دن یاد دلاتا ہے کہ قوم متحد ہو تو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی: صدر زرداری ایران کا برکس ممالک سے ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کا مطالبہ شادی کی تقریب پر حملے میں استعمال ہتھیار امریکی ساختہ تھے، ایرانی عدلیہ ٹرمپ کے نمائندہ وفد کی روسی صدر سے ملاقات، 3 گھنٹے سے زائد مذاکرات جاری رہے ایران کا خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کیلئے فیصلہ کن اقدامات کا اعلان ایران جنگ سے متعلق معلومات لیک ہونے کی امریکی تحقیقات، ذمے دار کی شناخت نہ ہو سکی

ٹرمپ سے زیادہ ایران کی باتوں پر یقین کرتا ہوں، سابق سربراہ سی آئی اے

Web Desk

25 March 2026

واشنگٹن: سی آئی اے کے سابق سربراہ جان برینن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے مقابلے میں ایران کی باتوں پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ اپنے حالیہ بیان میں جان برینن نے صدر ٹرمپ پر حقائق کو مسخ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حقائق بار بار سامنے آنے کے باوجود صدر انہیں تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔

سابق سی آئی اے چیف نے صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں کی تردید کی کہ ایران امریکی شرائط پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ اس وقت اپنی ہی پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی “تخلیق کردہ شکست” سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔

جان برینن کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے اور اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کی خبریں زیرِ گردش ہیں۔ دفاعی ماہرین برینن کے اس بیان کو امریکی انٹیلی جنس بیوروکریسی اور وائٹ ہاؤس کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کے طور پر دیکھ رہے ہیں