LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کی دعوت پر لبنانی صدر اہلیہ کے ہمراہ واشنگٹن پہنچ گئے متحدہ عرب امارات کا کشیدگی میں فوری کمی اور مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ سعودی اور کویتی وزرائے خارجہ کی خطے میں ایرانی حملوں کی مذمت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، امریکا کا اپنے شہریوں کو دنیا بھر میں محتاط رہنے کا مشورہ امریکی افواج کو ایران کے جوابی اقدامات سے بچنے کیلئے فوری نکل جانا چاہیے، ابراہیم عزیزی ایران نے شمالی عراق کے کرد علاقے سے ملحق دو سرحدی گزر گاہیں بند کر دیں ایران کے شمالی عراق میں کرد اپوزیشن گروپ کے ٹھکانوں پر حملے اربیل میں ڈرون حملوں کے بعد امریکی قونصل خانے کا فضائی دفاعی نظام فعال کردیا گیا ایران کے جنوبی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، ایرانی میڈیا امریکا نے دنیا بھر میں اپنے شہریوں کیلئے سفری الرٹ جاری کردیا امریکی صدر کی ہدایت پر ایران کے خلاف بڑے فضائی حملوں کا آغاز، تہران کی عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا، سینٹ کام کا باضابطہ اعلان اردن حملے میں فوجیوں کی ہلاکت پر ٹرمپ کی خاموشی ٹوٹ گئی، پینٹاگون کو پوری شدت سے ایران پر بمباری کا حکم، روسی میڈیا کا دعویٰ انمول عرف پنکی کا بھائی منشیات سمیت گرفتار ٹرمپ دو اہم سفارتی کامیابیوں کو تباہ کر کے امن کی بات کر رہے ہیں، ایرانی سفیر امریکی فوجیوں کی قربانی ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرے گی، پیٹ ہیگستھ

قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا اسرائیلی جارحیت پر مذمتی قرارداد نہ پاس ہونے پر سخت ردعمل

Web Desk

10 March 2026

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ نے اسرائیلی جارحیت پر ابھی تک مذمتی قرارداد نہیں پاس کی، اور یہ صورتحال قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو یہ دکھانا ہوگا کہ موجودہ حکومت عوام کی نمائندہ نہیں ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے قومی حکومت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسی حکومت میں تمام پارٹیاں شامل ہوں اور موجودہ پارلیمنٹ کو عوام کا حقیقی نمائندہ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ “زر اور زور کی بنیاد پر یہ پارلیمنٹ بنی ہے اور یہ حکومت موجودہ حالات میں پاکستان نہیں چلا سکتی۔”

انہوں نے خطے میں بڑھتی کشیدگی، پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور ایک روحانی پیشوا کے شہادت جیسے معاملات پر پارلیمنٹ کی خاموشی پر بھی تنقید کی۔

اجلاس کے دوران ڈپٹی اسپیکر نے واضح کیا کہ اپوزیشن اپنے تحریکیں لے کر آئے تو کنسینسس کی صورت میں یہ قراردادیں پاس ہو سکتی ہیں، اور اجلاس کے دوران پارٹیوں کے چیف وہیپ نام فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن سے کہا کہ یہ اقدام ان کی ذمہ داری ہے تاکہ پارلیمنٹ کے فیصلے عوامی توقعات کے مطابق ہوں۔