LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
طبی تعلیم اور تحقیق میں پاک-امریکہ تعاون کا بڑا معاہدہ؛ نیویارک میں ایم او یو پر دستخط، ٹرمپ کی دعوت پر لبنانی صدر اہلیہ کے ہمراہ واشنگٹن پہنچ گئے متحدہ عرب امارات کا کشیدگی میں فوری کمی اور مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ سعودی اور کویتی وزرائے خارجہ کی خطے میں ایرانی حملوں کی مذمت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، امریکا کا اپنے شہریوں کو دنیا بھر میں محتاط رہنے کا مشورہ امریکی افواج کو ایران کے جوابی اقدامات سے بچنے کیلئے فوری نکل جانا چاہیے، ابراہیم عزیزی ایران نے شمالی عراق کے کرد علاقے سے ملحق دو سرحدی گزر گاہیں بند کر دیں ایران کے شمالی عراق میں کرد اپوزیشن گروپ کے ٹھکانوں پر حملے اربیل میں ڈرون حملوں کے بعد امریکی قونصل خانے کا فضائی دفاعی نظام فعال کردیا گیا ایران کے جنوبی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، ایرانی میڈیا امریکا نے دنیا بھر میں اپنے شہریوں کیلئے سفری الرٹ جاری کردیا امریکی صدر کی ہدایت پر ایران کے خلاف بڑے فضائی حملوں کا آغاز، تہران کی عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا، سینٹ کام کا باضابطہ اعلان اردن حملے میں فوجیوں کی ہلاکت پر ٹرمپ کی خاموشی ٹوٹ گئی، پینٹاگون کو پوری شدت سے ایران پر بمباری کا حکم، روسی میڈیا کا دعویٰ انمول عرف پنکی کا بھائی منشیات سمیت گرفتار ٹرمپ دو اہم سفارتی کامیابیوں کو تباہ کر کے امن کی بات کر رہے ہیں، ایرانی سفیر

سرکاری دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،وزرااورافسران کے بیرون ملک دوروں پر پابندی،اسکولز31 مارچ تک بندرہیں گے، وزیراعظم

Web Desk

9 March 2026

وزیر اعظم شہباز شریف نے خطے کی موجودہ صورتحال پر قوم سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات کا اعلان کیا۔انہوں نے بتایاکہ سرکاری و نجی دفاتر میں ہفتے میں تین چھٹیاں ہوں گی۔50 فیصد عملہ  ورک فراہم ہوم کرے گا، افسروں کے بیروں ملک دوروں پرپابندی جبکہ اسکولزمیں دو ہفتوں کی تعطیلات ہوں گی۔

وزیر اعظم نے قوم سے خطاب میں کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی شہادت پر پاکستان گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے، ایران پر ہونیوالے اسرائیلی حملوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین اور دیگر ملکوں پر حملوں کی بھی مذمت کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ خلیجی ملکوں پر حملوں سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں، پاکستان آزمائش کی گھڑی میں ان ملکوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑا ہے، پاکستان ان ملکوں کی سلامتی کو اپنی سلامتی کا حصہ سمجھتا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 60 سے بڑھ کر 100 ڈالرز سے تجاوز کرچکی ہے، ہماری معیشت کا انحصار خلیج سے آنے والے تیل اور گیس پر ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے مشکل فیصلے کیے ہیں، عالمی منڈی میں تیل گیس کی قیمتوں کا تعین پاکستان کے اختیار میں نہیں ہے، حکومت نے توانائی بحران کم کرنے کے لیے مشکل فیصلے کیے ہیں۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ حکومت ہر ممکن کوشش کررہی ہے کہ مشکل حالات کے باوجود معیشت کو مستحکم رکھا جائے، تیل کی قیمتوں میں اضافہ مشکل اور دل پر پتھر رکھ کر کیا گیا، دماغ کہتا تھا کہ تیل کی قیمت میں اضافے کے سوا آپشن نہیں لیکن دل کہتا تھا کہ کہیں تیل کی قیمت میں اضافے  سے غریب عوام پر بوجھ نہ بڑھے۔

وزیر اعظم نے کہا آئندہ 2ماہ کے لیے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کو ملنے والے ایندھن میں 50 فیصد کمی کی جارہی ہے جس سے ایمبولینسز اور عوامی استعمال کی بسیں مستثنیٰ ہوں گی۔

وزیر اعظم کے مطابق آئندہ دو ماہ کے لیے تمام سرکاری محکموں کی  60 فیصد سرکاری گاڑیاں گراؤنڈ کی جارہی ہیں، جبکہ کابینہ کے تمام ارکان،  وزرا، مشیر، معاونین رضاکارانہ طورپر2 ماہ کی تنخواہ نہیں لیں گے اسی طرح ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں بھی 25 فیصد کٹوٹی کی جارہی ہے۔

گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران جن کی تنخواہ 3 لاکھ سے زائد ہے ان کی تنخواہ سے دو دن کی کٹوتی کرکے عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جائے گی۔وزیراعظم کے مطابق تمام محکموں کے تنخواہوں کے علاوہ اخراجات میں 20 فیصد کٹوتی اور سرکاری محکموں میں اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔

وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ سرکاری افسران، مشیران اور وفاقی و صوبائی وزرا کے بیرون ملک دوروں پر پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ گورنرز کے بھی بیرون ملک دوروں پر پابندی ہوگی۔وزیر اعظم کے مطابق ٹیلی کانفرنس اور آئن لائن اجلاس کو ترجیح دی جائے گی، سرکاری عشائیے اور افطار پارٹیوں پر بھی مکمل پابندی ہوگی، سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے سیمینار اور کانفرنسز  ہوٹلوں کے بجائے سرکاری مقامات پر ہوں گے۔

وزیر اعظم نے کہاکہ  ایندھن اور تونائی کی بچت کے لیے سرکاری اور نجی شعبے میں انتہائی ضروری سروسز کو چھوڑ کر 50 فیصد اسٹاف گھر سے کام کرے گا۔ہفتے میں صرف چار دن دفاتر کھلیں گے اورہفتے میں ایک دن اضافی چھٹی دی جائے گی، اس کا اطلاق بینکوں اور صنعتوں اور زراعت کے شعبوں  پر نہیں ہوگا۔وزیر اعظم کے مطابق رواں ہفتے کے آخر سے تمام اسکولوں کو دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جارہی ہیں جبکہ  اعلیٰ  تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز کا اجرا کیا جارہا ہے۔