LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا

پاکستان کے نان بینکنگ مالیاتی شعبے میں ریکارڈ نمو، اثاثوں کی مالیت 6.84 کھرب روپے تک پہنچ گئی

Web Desk

25 February 2026

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے مطابق پاکستان کے غیر بینکنگ مالیاتی شعبے (NBFC) نے جولائی تا دسمبر 2025ء کے دوران غیر معمولی نمو ریکارڈ کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس شعبے کے مجموعی اثاثے سالانہ اور ششماہی بنیادوں پر 21 فیصد اضافے کے ساتھ 6.84 کھرب روپے تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ جون 2025ء میں یہ اثاثے 5.63 کھرب روپے تھے۔ اس عرصے کے دوران میوچل فنڈز کے اثاثے 4.5 کھرب روپے ہو گئے اور فنڈز کی تعداد 369 سے بڑھ کر 409 تک پہنچ گئی۔ سرمایہ کار اکاؤنٹس میں بھی 8 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد ان کی تعداد 8 لاکھ 45 ہزار ہو گئی ہے۔

ایس ای سی پی کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سرمایہ کاروں کا سب سے زیادہ رجحان منی مارکیٹ فنڈز کی طرف رہا جہاں 44 فیصد سرمایہ کاری ہوئی، جبکہ انکم فنڈز میں 23 فیصد اور ایکوئیٹی فنڈز میں 14 فیصد سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح قرض فراہم کرنے والی کمپنیوں کے اثاثوں میں 65 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا جو 824 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ شریعہ کمپلائنٹ اثاثے 2.47 کھرب روپے رہے جو مجموعی مالیاتی حجم کا 36 فیصد ہیں۔ مزید برآں، رضاکارانہ پنشن اسکیم کے شرکاء کی تعداد ایک لاکھ 43 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور رجسٹرڈ نان بینک مالیاتی اداروں کی تعداد 174 سے بڑھ کر 185 ہو گئی ہے۔