LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 734 ہو گئی، 2,498 افراد لاپتہ شمالی کوریا کی فوجی کمان میں بڑی تبدیلی، وزیرِ دفاع سمیت کئی عہدیدار برطرف پاکستان اور ازبکستان کا اقتصادی روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق اسلام آباد یادداشت پر عملدرآمد سے مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں: ایرانی صدر جماعت اسلامی کے دھرنوں کے 2 ہفتے مکمل، آج راولپنڈی میں تاریخی جلسے کا اعلان بانی پی ٹی آئی کی بہن بتا چکی عمران خان بالکل فٹ ہیں، وزیر دفاع پمز سانحہ: بچوں کو بچانے کی کوششیں ثابت، 9 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری امریکا میڈیا کے ذریعے توانائی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کر رہا ہے، عباس عراقچی کیف کے قریب روسی ڈرون حملہ، گولہ بارود ڈپو میں دھماکہ، 37 افراد ہلاک ایران کا امریکا اسرائیل سے منسلک دہشتگرد گروپ کے 6 ارکان کی گرفتاری کا دعویٰ مسلم ممالک سکیورٹی کیلئے بیرونی طاقتوں کی بجائے اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کریں، قالیباف فنڈز میں تاخیر، اسرائیلی فوج کا ستمبر سے ریزرو فوج میں کٹوتیوں کا عندیہ یو ایس ایس ابراہم لنکن سے کودنے والے امریکی اہلکار کیخلاف کارروائی، اہلیہ کا ردعمل سامنے آ گیا مسلمانوں کو دیوار کی اینٹوں کی طرح متحد ہونا ہوگا، ترک صدر ایران جنگ نہیں چاہتا، مگر ہر جارح کیخلاف پوری قوت سے کھڑا ہوگا: صدر پزشکیان

ایران کو جوہری معاہدے پر لانے کیلئے ٹرمپ محدود فوجی کارروائی کرسکتے ہیں، وال سٹریٹ جرنل کا دعویٰ

Web Desk

20 February 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئے جوہری معاہدے پر آمادہ کرنے کے لیے محدود فوجی کارروائی کے آپشن پر غور شروع کر دیا ہے۔ امریکی اخبار “وال سٹریٹ جرنل” کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس ممکنہ کارروائی کا مقصد تہران پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ واشنگٹن کی شرائط کے مطابق نئے معاہدے کو قبول کرے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر ایران کی اہم فوجی یا سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اگر ایران نے ان اقدامات کے باوجود معاہدہ تسلیم نہ کیا تو کارروائی کا دائرہ کار وسیع جنگ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے حالیہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ضرورت پڑنے پر فوجی طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے تہران کو خبردار کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ امن کا راستہ اختیار کرے، ورنہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عالمی ماہرین اس صورتحال کو مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ایک نیا اور خطرناک مرحلہ قرار دے رہے ہیں۔