ایران کو معاہدے پر مجبور کرنے کیلئے ٹرمپ کا محدود فوجی آپشن پر غور
Web Desk
20 February 2026
واشنگٹن: امریکی جریدے وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اسے جوہری معاہدے پر آمادہ کیا جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ حملے میں ایران کی عسکری یا سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد ایران پر دباؤ ڈال کر اسے مذاکرات کی میز پر لانا بتایا گیا ہے۔
اخبار کے مطابق اگر ایران نے معاہدہ تسلیم کرنے سے انکار کیا تو کارروائی کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
صدر ٹرمپ اس سے پہلے بھی ایران کے معاملے پر سفارتکاری کو اولین ترجیح قرار دے چکے ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر ضروری ہوا تو فوجی طاقت بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔
غزہ بورڈ آف پیس کے ابتدائی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا تھا کہ ایران کو کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور اسے امن کے راستے کا انتخاب کرنا ہوگا۔
متعلقہ عنوانات
امریکا سے مذاکرات میں اب بھی بڑا فاصلہ موجود ہے، ایرانی اسپیکر
18 April 2026
واشنگٹن:ایران صورتحال پر اہم اجلاس، صدر ٹرمپ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فون پر گفتگو
18 April 2026
خلیج میں لنگرانداز جہاز حرکت نہ کریں ، پاسداران انقلاب کی سخت وارننگ
18 April 2026
ڈیزل سے بھرا پاکستانی جہاز آبنائے ہرمز سے داخل ہوکر واپس لوٹ گیا
18 April 2026
ضلعی انتظامیہ نے اسلام آباد میں دکانیں اور بس اڈے بند ہونے کی خبروں کی تردید کردی
18 April 2026
فیلڈمارشل عاصم منیرکی تہران آمدپرپیش کردہ امریکی تجاویزکاجائزہ لے رہےہیں، ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل
18 April 2026
امریکا سے مذاکرات کےدوسرے مرحلے کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی، ایرانی نائب وزیرخارجہ
18 April 2026
آبنائے ہرمز کے انتظام پر مکمل اختیارہے، ٹرمپ کی دھمکیوں کا جواب دینے کی ضرورت نہیں، ایرانی نائب صدر
18 April 2026