LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
قومی اسمبلی: 29 وزارتوں اور ڈویژنوں کے 40 کھرب 48 ارب کے 89 مطالبات زر منظور پاکستان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر عملدرآمد کیلئے کردار ادا کرے گا: دفتر خارجہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے قومی اسمبلی میں بجٹ کی منظوری کا عمل آج باضابطہ طور پر شروع ہوگا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران سے مذاکرات کیلئے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بینظیر بھٹو کی آج 73 ویں سالگرہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکہ ایران تکنیکی سطح کے مذاکرات آج سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے میناب کے مظلوم بچوں اور شہدا کو اپنے طرزِ عمل کا گواہ سمجھتے ہیں، باقر قالیباف اسحاق ڈار مصر پہنچ گئے، علاقائی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کریں گے امریکا ایران مذاکرات کل شروع ہونے کا امکان، صورتحال بہتر ہونے کا دعویٰ محسن نقوی کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات، امریکا سے معاہدے کی صورتحال پر گفتگو گھروں پر ٹاور لگانے والا بل جاہلانہ اور غاضبانہ ہے: حافظ نعیم الرحمان پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان 70 کروڑ ڈالر کے قرض پروگرام پر دستخط رانا ثنااللہ نے وزیراعظم کی تبدیلی بارے خبریں بے بنیاد قرار دے دیں ڈیمو کریٹس کو سمجھنا چاہیے کہ ہم نے ایران جنگ میں کتنی بڑی کامیابی حاصل کی:ٹرمپ

پاکستانی شوبز شخصیات بسنت کی تقریبات پر تنقید کی زد میں

Web Desk

8 February 2026

لاہور: پاکستان میں بسنت کے جشن کے دوران کئی مشہور شوبز شخصیات شدید تنقید کی زد میں آ گئیں۔ بسنت کئی سالوں تک ممنوع رہا، تاہم حکومت نے حال ہی میں اسے دوبارہ شروع کیا اور جشن 6 تا 8 فروری کے لیے شیڈول کیا۔

ملک بھر سے لوگ لاہور پہنچے تاکہ بسنت منائیں، اور اس موقع پر کئی سلیبریٹیز بھی نظر آئیں، جن میں صبور علی، سجل علی، علی انصاری اور دیگر شامل ہیں۔ اداکارہ مایا علی نے بھی بسنت منانے کی ویڈیو شیئر کی۔

تاہم، ان تقریبات پر عوام کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی کیونکہ سلیبریٹیز نے اسلام آباد میں 6 فروری کو امام بارگاہ پر ہونے والے حملے کے باوجود جشن جاری رکھا۔

سوشل میڈیا صارفین نے سلیبریٹیز کے اس رویے پر مایوسی کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے کہا کہ “یہ کیسے آسانی سے عوام کو بہکا سکتے ہیں، اللّٰہ ہمیں ہدایت دے”، جبکہ دوسرے نے کہا کہ بے گناہ شہداء کے لیے بسنت کیوں نہیں روکی گئی۔ کئی صارفین نے تاکید کی کہ اصل مسائل پر توجہ دی جائے اور فضول تقریبات پر توجہ نہ دی جائے۔