LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر عملدرآمد کیلئے کردار ادا کرے گا: دفتر خارجہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے قومی اسمبلی میں بجٹ کی منظوری کا عمل آج باضابطہ طور پر شروع ہوگا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران سے مذاکرات کیلئے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بینظیر بھٹو کی آج 73 ویں سالگرہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکہ ایران تکنیکی سطح کے مذاکرات آج سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے میناب کے مظلوم بچوں اور شہدا کو اپنے طرزِ عمل کا گواہ سمجھتے ہیں، باقر قالیباف اسحاق ڈار مصر پہنچ گئے، علاقائی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کریں گے امریکا ایران مذاکرات کل شروع ہونے کا امکان، صورتحال بہتر ہونے کا دعویٰ محسن نقوی کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات، امریکا سے معاہدے کی صورتحال پر گفتگو گھروں پر ٹاور لگانے والا بل جاہلانہ اور غاضبانہ ہے: حافظ نعیم الرحمان پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان 70 کروڑ ڈالر کے قرض پروگرام پر دستخط رانا ثنااللہ نے وزیراعظم کی تبدیلی بارے خبریں بے بنیاد قرار دے دیں ڈیمو کریٹس کو سمجھنا چاہیے کہ ہم نے ایران جنگ میں کتنی بڑی کامیابی حاصل کی:ٹرمپ بھارت کی آزاد کشمیر میں امن تباہ کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی: خواجہ آصف

خواتین کے تنگ لباس پر نادیہ خان کا بہروز سبزواری کو طنز

Web Desk

3 February 2026

پاکستان کی معروف میزبان اور اداکارہ نادیہ خان نے سینئر اداکار بہروز سبزواری کے خواتین کے لباس کے متعلق دیے گئے ماضی کے بیان پر طنزیہ انداز میں تبصرہ کر کے توجہ حاصل کر لی۔

شو کے دوران اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے ایک ڈرامے میں صبا قمر کے کردار اور لباس کی تعریف کی، جس پر نادیہ خان کے لباس کی بھی تعریف کی گئی اور کہا گیا کہ ملبوسات قدرے زیادہ فٹ ہونے چاہئیں۔

نادیہ خان نے ہنستے ہوئے کہا کہ ایسے چُست کپڑے بہروز سبزواری کو پسند نہیں، اس لیے انہوں نے احتیاط کی تاکہ کسی کو ناراضی نہ ہو۔ ان کا یہ طنزیہ تبصرہ دراصل بہروز سبزواری کے انٹرویو کی جانب اشارہ تھا، جس میں انہوں نے خواتین کے تنگ لباس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر نادیہ خان کے طنزیہ تبصرے نے صارفین کی دلچسپی حاصل کی اور دونوں فنکاروں کے بیانات پر بحث کو فروغ دیا۔