بابری مسجد کی شہادت کو 33 سال مکمل، 2 ہزار مسلمان شہید ہوئے تھے
Web Desk
6 December 2025
6دسمبر 1992 کو اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں انتہا پسند ہندوؤں نے بابری مسجد کو شہید کر دیا تھا، حملہ کرنے والوں کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی، راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ، وشوا ہندو پریشاد اور بجرنگ دل سے تھا، انتہا پسندوں نے کلہاڑیوں، ہتھوڑوں اور دیگر اوزاروں سے بابری مسجد کو نشانہ بنایا۔بابری مسجد کی شہادت کے دوران مسلمانوں کی طرف سے شدید احتجاج اور مزاحمت کی گئی، حکومتی حمایت یافتہ فسادات کے نتیجے میں 2 ہزار سے زائد مسلمان شہید جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے، بی جے پی رہنما ایل کے ایڈوانی اور منوہر جوشی نے انتہا پسند ہندوؤں کو بابری مسجد شہید کرنے کے لئے اشتعال دلایا تھا۔
2009 میں جسٹس منموہن سنگھ کی تحقیقاتی رپورٹ میں بی جے پی رہنماؤں سمیت 68 لوگوں کو موردالزام ٹھہرایا گیا۔سربراہ بھارتی انٹیلی جنس بیورو ملوئے کرشنا کے مطابق بابری مسجد کی شہادت کا منصوبہ بی جے پی، راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ اور وشوا ہندو پریشاد نے 10 ماہ پہلے بنایا تھا۔دوسری طرف 9 نومبر 2019 کو بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی شہادت میں ملوث تمام ملزمان کو بری کر دیا تھا۔ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ایودھیا میں بابری مسجد کی بے حرمتی بین الاقوامی اصولوں کے منافی اور اقلیتوں کے مذہبی حقوق کی سنگین خلاف ورزی تھی، 1992 سے اب تک صرف بھارتی ریاست گجرات میں 500 مساجد شہید اور ان گنت مزارات ڈھائے جا چکے ہیں
متعلقہ عنوانات
وزیراعظم کا ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، خطے میں امن و استحکام پر زور
10 July 2026
بھارت میں 36 برس تک 300 لگژری ہوٹلوں کو چکما دینے والا فراڈیا سامنے آگیا
10 July 2026
ایران برسوں سے مجھے نشانہ بنانا چاہتا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
10 July 2026
اسحاق ڈار سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی امیدوار ربیکا گرینسپان کی ملاقات
10 July 2026
کراچی کارگو طیارہ حادثہ، تحقیقاتی ٹیم اسلام آباد واپس روانہ
10 July 2026
امریکا، ایران کشیدگی کم کرانے کے لیے قطری ثالث دوبارہ متحرک
10 July 2026
قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ کا رابطہ، ایران امریکا مذاکرات جاری رکھنے پر زور
10 July 2026
یوکرین کے ایک رات میں روس پر 376 ڈرون حملے، آئل ریفائنری اور بندرگاہ کو نشانہ بنایا گیا
10 July 2026