LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کا ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، خطے میں امن و استحکام پر زور بھارت میں 36 برس تک 300 لگژری ہوٹلوں کو چکما دینے والا فراڈیا سامنے آگیا ایران برسوں سے مجھے نشانہ بنانا چاہتا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ اسحاق ڈار سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی امیدوار ربیکا گرینسپان کی ملاقات امریکا، ایران کشیدگی کم کرانے کے لیے قطری ثالث دوبارہ متحرک قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ کا رابطہ، ایران امریکا مذاکرات جاری رکھنے پر زور یوکرین کے ایک رات میں روس پر 376 ڈرون حملے، آئل ریفائنری اور بندرگاہ کو نشانہ بنایا گیا قومی ہاکی ٹیم کے غیر ملکی کوچز پاکستان پہنچ گئے، ذمہ داریاں سنبھال لیں ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان، جنگ بندی ختم ہونے کا دعویٰ آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کشیدہ؛ حکومت نے وفاق سے رینجرز اور ایف سی اہلکار مانگ لیے ’جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی‘، نیتن یاہو کی ایران کو سخت وارننگ عوامی مسائل نظرانداز، حافظ نعیم الرحمان کا ملک گیر احتجاج کا اعلان ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان، جنگ بندی ختم ہونے کا دعویٰ غیر ملکی ملازمین کے لیے استعمال ہونے والے ویزا سسٹم میں وسیع پیمانے پر دھوکہ دہی بے نقاب نجکاری کمیشن بورڈ کا اہم فیصلہ: اسلام آباد ایئرپورٹ نجی شعبے کے حوالے کرنے کے لیے ٹرانزیکشن ایڈوائزری معاہدے کی منظوری

بابری مسجد کی شہادت کو 33 سال مکمل، 2 ہزار مسلمان شہید ہوئے تھے

Web Desk

6 December 2025

6دسمبر 1992 کو اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں انتہا پسند ہندوؤں نے بابری مسجد کو شہید کر دیا تھا، حملہ کرنے والوں کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی، راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ، وشوا ہندو پریشاد اور بجرنگ دل سے تھا، انتہا پسندوں نے کلہاڑیوں، ہتھوڑوں اور دیگر اوزاروں سے بابری مسجد کو نشانہ بنایا۔بابری مسجد کی شہادت کے دوران مسلمانوں کی طرف سے شدید احتجاج اور مزاحمت کی گئی، حکومتی حمایت یافتہ فسادات کے نتیجے میں 2 ہزار سے زائد مسلمان شہید جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے، بی جے پی رہنما ایل کے ایڈوانی اور منوہر جوشی نے انتہا پسند ہندوؤں کو بابری مسجد شہید کرنے کے لئے اشتعال دلایا تھا۔

2009 میں جسٹس منموہن سنگھ کی تحقیقاتی رپورٹ میں بی جے پی رہنماؤں سمیت 68 لوگوں کو موردالزام ٹھہرایا گیا۔سربراہ بھارتی انٹیلی جنس بیورو ملوئے کرشنا کے مطابق بابری مسجد کی شہادت کا منصوبہ بی جے پی، راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ اور وشوا ہندو پریشاد نے 10 ماہ پہلے بنایا تھا۔دوسری طرف 9 نومبر 2019 کو بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی شہادت میں ملوث تمام ملزمان کو بری کر دیا تھا۔ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ایودھیا میں بابری مسجد کی بے حرمتی بین الاقوامی اصولوں کے منافی اور اقلیتوں کے مذہبی حقوق کی سنگین خلاف ورزی تھی، 1992 سے اب تک صرف بھارتی ریاست گجرات میں 500 مساجد شہید اور ان گنت مزارات ڈھائے جا چکے ہیں