LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کا چین کو اسلحہ فروخت کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں: امریکی حکام چاروں صوبوں میں ترقی ہونی چاہیے، کوئی پاکستان میں مداخلت کرے گا تو بھرپور جواب دیں گے: چیئرمین سینیٹ امریکا کا آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل کنٹرول کا دعویٰ مسترد پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کے چوتھے جائزے پر مذاکرات جاری کابینہ کمیٹی اجلاس: قانون سازی کیلئے وزارتوں کو ترامیم اور سفارشات بھجوانے کی ہدایت ایرانی فوج کا آبنائے ہرمز اور خلیج فارس پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ امریکی افغانستان جنگ کمیشن کے وفد کی فیلڈ مارشل سے ملاقات، علاقائی سکیورٹی پر تبادلہ خیال ثالث ملکوں کے نمائندوں کے امریکا، ایران سے الگ الگ مذاکرات متوقع بانی پی ٹی آئی سے منگل کو وکلا کی ملاقات کا دن، 6 نام جیل حکام کو ارسال ایشین گیمز ہاکی: پاکستان نے عمان کو شکست دیکر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کر لیا بانی پی ٹی آئی کا حکم ملا تو دوبارہ وزیراعلیٰ بن سکتا ہوں: علی امین گنڈاپور حسن نصراللہ مزاحمتی محاذ کی عظیم علامت ہیں، مجتبیٰ خامنہ ای 4 اکتوبر کو احتجاج کیلئے پی ٹی آئی کی کوئی تیاری نہیں: عطا تارڑ سٹاک ایکسچینج: 100 انڈیکس میں 339 پوائنٹس کی کمی راولپنڈی میں غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپے میں 61 ملزمان گرفتار

پاکستان ثالث کی اپیل پر افغان طالبان سے مذاکرات بحال، امن عمل کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ

Web Desk

30 October 2025

پاکستان نے ثالث کی درخواست پر افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے امن عمل کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد استنبول میں قیام بڑھائے گا تاکہ بات چیت کے سلسلے کو جاری رکھا جا سکے۔

اطلاعات کے مطابق افغانستان نے کالعدم ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی ملک بدری کی تجویز پیش کی ہے، جب کہ پاکستان نے افغان طالبان سے ٹی ٹی پی کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے اور اس کی کارروائیوں کو غیر شرعی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان حکومت دہشت گردوں کے خلاف قابلِ تصدیق اور مؤثر کارروائی کرے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی تجاویز پر افغان طالبان کی مشاورت جاری ہے۔ یاد رہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کے پہلے مرحلے کے بعد عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد استنبول میں چار ادوار ہوئے۔

گزشتہ روز وزیر اطلاعات عطا محمد تارڑ نے مذاکرات کی ناکامی کا اعلان کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغان وفد نے پاکستان کے قابلِ اعتبار شواہد تسلیم کیے مگر کوئی حتمی یقین دہانی نہیں دی۔ ان کے مطابق افغان نمائندے اصل مسئلے سے ہٹ کر الزام تراشی اور تاویلات میں مصروف رہے۔

دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ کابل کے ساتھ ایک معاہدہ طے ہونے کے قریب تھا، مگر افغان وفد نے کابل سے مشاورت کے بعد اچانک پس قدمی اختیار کرلی۔