LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لاہور میں بسنت 2027 کی تاریخیں تبدیل، نوٹیفکیشن جاری ملک بھر میں کھیلوں کے فروغ کیلئے ٹیلنٹ کو بلاامتیاز مواقع دیں گے: وزیراعظم او آئی سی اجلاس شروع، عراقی وزیراعظم کی ثالثی کیلئے پاکستان کی ستائش خطے میں کسی بھی محاذ پر لڑائی کا مطلب جنگ جاری رہنا ہے: ایران کے پی حکومت مولانا کے بغیر چلے گی اور ترقی بھی کرے گی: گورنر فیصل کنڈی او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس آج بغداد میں ہوگا، اسحاق ڈار شرکت نہیں کریں گے خیبرپختونخوا میں معدنیات کے لائسنس پی ٹی آئی ادوار میں زیادہ دیئے گئے: خواجہ آصف خلیج میں توانائی تنصیبات پر حملے پاکستانی معیشت کیلئے تشویش کا باعث ہیں: وزیر خزانہ خیبر پختونخوا میں ایکشن پلان تیار، 27 محکموں کیلئے بڑے اقدامات تجویز سرکاری عہدہ ملازمت نہیں، عوامی خدمت کا ذریعہ ہے: مریم نواز فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ: بجلی 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی تیاری مشین ریڈایبل پاسپورٹ بند، اب صرف ای پاسپورٹ جاری ہوں گے سانحہ پشاور: سکول کی عمارت ناقص تعمیر کے باعث منہدم ہوئی، رپورٹ پولیس چیف کو ارسال پاکستان نے علاقائی استحکام کے فروغ کیلئے مؤثر کردار ادا کیا: رضوان سعید امریکی میڈیکیئر فنڈز میں 1 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے فراڈ میں مطلوب تین ملزمان کے پاکستان میں ہونے کا انکشاف

ٹرمپ کی تین خبر رساں اداروں پر عائد پابندی غیر آئینی قرار

Web Desk

25 September 2026

وائٹ ہاؤس نے وفاقی جج ٹم کیلی کے فیصلے کے بعد معروف خبر رساں اداروں سی این این (CNN)، ایم ایس ناؤ (MS Now) اور پولیٹیکو (Politico) کے صحافیوں کو پریس کوریج کی مکمل رسائی بحال کر دی ہے۔ وفاقی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان تینوں میڈیا اداروں پر عائد کردہ پابندی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے 14 روز کے لیے معطل کر دیا تھا اور اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ صحافیوں کے پریس پاس منسوخ کرنا آئینی آزادیِ اظہار رائے اور صحافت کے حق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے میڈیا پر اس پابندی کا دفاع کرتے ہوئے اسے قومی سلامتی کے خدشات سے جوڑا تھا، تاہم جج کیلی نے ان دلائل کو شواہد کے بغیر قرار دیتے ہوئے رد کر دیا۔ ابتدائی عدالتی احکامات کے باوجود وائٹ ہاؤس کے سیکیورٹی عملے نے کچھ رپورٹرز کا داخلہ روکا اور پولیٹیکو کے نمائندے کا پاس ضبط کر لیا، جس پر تینوں اداروں نے فوری عدالتی سماعت کی درخواست دائر کی۔ عدالت کے سخت موقف کے بعد وائٹ ہاؤس انتظامیہ نے متاثرہ صحافیوں کو پریس پاسز دوبارہ جاری کر کے ان کی وائٹ ہاؤس تک رسائی بحال کر دی ہے۔