LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایمرجنسی سے متعلق غور و خوض مکمل ہوگیا، ایمرجنسی 12 اضلاع میں نہیں، پورے صوبے میں لگےگی: طارق فضل فلائی دبئی واقعہ کا ملزم اسرائیلی بن گوریون ایئرپورٹ کو نشانہ بنانا چاہتا تھا: اماراتی اٹارنی جنرل ٹرمپ نے کیٹی زکریا کو وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکرٹری نامزد کردیا: امریکی اخبار پاکستان کا امریکا اور ایران کے درمیان 7 نکات پر مذاکرات جاری ہونے کا انکشاف روسی حملوں سے یوکرین میں مزید ہلاکتیں، زیلنسکی کا نیٹو سے دفاعی امداد کا مطالبہ سعودی عرب اپنی سلامتی کے دفاع کا حق رکھتا ہے، سعودی مندوب عبدالعزیز الواصل حوثیوں کا خطرہ اب یمن کا اندرونی معاملہ نہیں رہا، یمنی مندوب پاناما میں 7.7 شدت کا زلزلہ، متعدد ممالک میں سونامی کی وارننگ جاری ایران اب بھی امریکا کو جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، بلومبرگ روس امریکا اور عالمی منڈی کو فوری طور پر 3 لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل فراہم کرے گا، صدر ٹرمپ سنگاپور کے بعد دبئی عالمی کرپٹو انڈسٹری کی اگلی بڑی منزل بننے کو تیار نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی مقامی مسجد آمد، نمازِ جمعہ کی ادا کی پٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا گیا بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں اضافہ، ستمبر میں 3 ارب 59 کروڑ ڈالر موصول خیبرپختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی نافذ کرنے پر غور، افسران کو تیار رہنے کی ہدایت

پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث تیز، ڈبلیو ای ایف کی رپورٹ میں 32صوبے بنانے کی تجاویز

Web Desk

9 October 2026

رپورٹ، جس کا عنوان What Pakistan Reveals About Administrative Reform for Fast-Growing Populations (تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادیوں کے لیے انتظامی اصلاحات کے حوالے سے پاکستان سے حاصل ہونے والے اسباق) ہے، میں جائزہ لیا گیا ہے کہ 1951 کے بعد پاکستان کی آبادی سات گنا سے زیادہ بڑھ کر تقریباً 26 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ملک اب بھی انہی چار بڑے صوبوں کے انتظامی ڈھانچے کے تحت کام کر رہا ہے۔

رپورٹ میں انتظامی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل کے لیے کئی ممکنہ ماڈلز پیش کیے گئے ہیں، جن میں 16 انتظامی یونٹس بنانا، ان کی تعداد 23 سے 25 تک بڑھانا، یا موجودہ سول ڈویژنز کی بنیاد پر 32 سے زائد صوبےبنانا شامل ہے۔

تجزیے میں اس بڑھتے ہوئے دباؤ کو اجاگر کیا گیا ہے جس کا سامنا حکومتوں کو تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور دیگر ضروری عوامی خدمات فراہم کرنے کے سلسلے میں کرنا پڑ رہا ہے، کیونکہ آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے اور معاشرتی ضروریات میں تنوع آ رہا ہے۔

 

تجزیے میں اِس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ اندازہ ہے کہ 2030 تک پاکستان کی آبادی 26 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے، جس سے انتظامی اصلاحات کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق انتظامی حدود کو آبادیاتی اور معاشی حقائق کے ساتھ تبدیل ہونا چاہیے، تاہم، اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ صرف نئے صوبے بنانے سے عوامی خدمات میں بہتری کی ضمانت نہیں ملتی، اس مقصد کے لیے قابلِ اعتماد مالی وسائل، واضح طور پر متعین ذمہ داریاں، مضبوط ادارے اور مؤثر احتسابی نظام بھی ضروری ہیں۔