LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کی 40 روزہ جنگ کے دوران 3519 افراد جاں بحق ہونے کی تصدیق امریکا کے ساتھ عبوری معاہدے پر عملدرآمد تک مذاکرات نہیں ہوں گے: عراقچی ترکش پیٹرولیم پاکستان کے سمندروں میں آف شور ڈرلنگ کرنے جا رہی ہے: علی پرویز گڈز اور منی مزدا ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا دوسرا روز، گاڑیوں کی روانگی معطل افغان حکومت اپنی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے، حافظ نعیم پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا مکہ باہمی دفاعی معاہدے کے بعد خصوصی نغمہ جاری مریم نواز سے ایم پی ایز کی ملاقات، سیاسی امور، عوامی فلاحی منصوبوں پر تبادلہ خیال کوسوو میں اپوزیشن رکن اسمبلی نے قائم مقام وزیراعظم پر انڈے پھینک دیے سعودی عرب اور یمن کی متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر پر حملے کی مذمت آزاد جموں و کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کا تیسرا مرحلہ کل ہوگا آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام، ڈاکٹر معید یوسف کی طلبہ کیساتھ خصوصی نشست نائجیریا کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن، 6ماہ سے جنگل میں قید 308 افراد بازیاب صدر کا قدیم مقامی باشندگان کے حقوق، ثقافت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کا لاہور ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن کے عمل کا جائزہ لیا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے کسی ملک کیلئے خطرہ نہیں: سعودی عہدیدار

ڈیموکریٹک سینیٹرز نے سالانہ دفاعی پالیسی بل پر بحث شروع کرنے کی کوشش ناکام بنا دی

Web Desk

15 July 2026

امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین نے سالانہ دفاعی پالیسی بل پر بحث شروع کرنے کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ ڈیموکریٹ اراکین کا موقف ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگی پالیسی اور اس بل میں شامل اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون کو مزید بڑھانے کی شقیں کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔ سینیٹ میں ہونے والی رائے شماری کے دوران ایوان نے 50 کے مقابلے میں 46 ووٹوں سے اس بل پر بحث شروع کرنے کی مخالفت کی، جبکہ 100 رکنی ایوان میں بحث کے باقاعدہ آغاز کے لیے کم از کم 60 ووٹ درکار تھے، جس کے باعث یہ اہم بل آگے نہ بڑھ سکا۔ واضح رہے کہ یہ بل ان چند مخصوص سالانہ قانون سازی اقدامات میں سے ایک ہے جنہیں ہر سال منظور کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے، اور اس کا تعلق صدر ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ 1.15 ٹریلین ڈالر کے بھاری دفاعی بجٹ کے ایک بڑے حصے کی منظوری سے تھا۔