LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر دی ٹرمپ اور شی جن پنگ کی وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات، اے آئی اور تجارت سمیت مختلف امور زیرِغور دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ کا دائرہ بحرِ ہند سے آگے تک پھیل سکتا ہے: ایران پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان سیاسی مشاورت کا پانچواں دور، تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر گفتگو شی جن پنگ کی وائٹ ہاؤس پہنچ گئے، ٹرمپ کا ریڈ کارپٹ پر شاندار استقبال اسرائیلی انتخابات: عرب جماعتوں کو الیکشن سے روکنے کا فیصلہ ترکمانستان نے ایرانی طیارے کو فضائی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا ٹرمپ آج وائٹ ہاؤس میں چینی صدر شی جن پنگ کی میزبانی کریں گے ڈاکٹر محمد نجیب نقی صدر آزاد جموں و کشمیر منتخب، حلف اٹھا لیا نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کا اجلاس: مقدمات کی ای فائلنگ نافذ کرنے پر غور بانی پی ٹی آئی سے رفقاء کی ملاقات کا وقت ختم، کسی رہنما کو اجازت نہ مل سکی مالدیپ کی عوامی مجلس کے سپیکر کا جی ایچ کیو کا دورہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات سیاسی لوگوں پر نٹ لانچر استعمال نہیں ہوتے، حکومت اپنی انا ختم کر کے بات سنے: بیرسٹر گوہر ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی کی اگلی قسط: اسٹیٹ بینک اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور مکمل

ڈیموکریٹک سینیٹرز نے سالانہ دفاعی پالیسی بل پر بحث شروع کرنے کی کوشش ناکام بنا دی

Web Desk

15 July 2026

امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین نے سالانہ دفاعی پالیسی بل پر بحث شروع کرنے کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ ڈیموکریٹ اراکین کا موقف ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگی پالیسی اور اس بل میں شامل اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون کو مزید بڑھانے کی شقیں کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔ سینیٹ میں ہونے والی رائے شماری کے دوران ایوان نے 50 کے مقابلے میں 46 ووٹوں سے اس بل پر بحث شروع کرنے کی مخالفت کی، جبکہ 100 رکنی ایوان میں بحث کے باقاعدہ آغاز کے لیے کم از کم 60 ووٹ درکار تھے، جس کے باعث یہ اہم بل آگے نہ بڑھ سکا۔ واضح رہے کہ یہ بل ان چند مخصوص سالانہ قانون سازی اقدامات میں سے ایک ہے جنہیں ہر سال منظور کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے، اور اس کا تعلق صدر ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ 1.15 ٹریلین ڈالر کے بھاری دفاعی بجٹ کے ایک بڑے حصے کی منظوری سے تھا۔