LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر دی ٹرمپ اور شی جن پنگ کی وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات، اے آئی اور تجارت سمیت مختلف امور زیرِغور دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ کا دائرہ بحرِ ہند سے آگے تک پھیل سکتا ہے: ایران پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان سیاسی مشاورت کا پانچواں دور، تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر گفتگو شی جن پنگ کی وائٹ ہاؤس پہنچ گئے، ٹرمپ کا ریڈ کارپٹ پر شاندار استقبال اسرائیلی انتخابات: عرب جماعتوں کو الیکشن سے روکنے کا فیصلہ ترکمانستان نے ایرانی طیارے کو فضائی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا ٹرمپ آج وائٹ ہاؤس میں چینی صدر شی جن پنگ کی میزبانی کریں گے ڈاکٹر محمد نجیب نقی صدر آزاد جموں و کشمیر منتخب، حلف اٹھا لیا نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کا اجلاس: مقدمات کی ای فائلنگ نافذ کرنے پر غور بانی پی ٹی آئی سے رفقاء کی ملاقات کا وقت ختم، کسی رہنما کو اجازت نہ مل سکی مالدیپ کی عوامی مجلس کے سپیکر کا جی ایچ کیو کا دورہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات سیاسی لوگوں پر نٹ لانچر استعمال نہیں ہوتے، حکومت اپنی انا ختم کر کے بات سنے: بیرسٹر گوہر ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی کی اگلی قسط: اسٹیٹ بینک اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور مکمل

دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ کا دائرہ بحرِ ہند سے آگے تک پھیل سکتا ہے: ایران

Web Desk

24 September 2026

ایران کے سپریم لیڈر کے عسکری مشیر میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایران پر دوبارہ کوئی عسکری حملہ کیا گیا تو اس جنگ کا دائرہ خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ سے نکل کر بحرِ ہند اور ممکنہ طور پر اس سے بھی آگے تک پھیل سکتا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز کو جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں ان کا کہنا تھا کہ موجودہ تنازع پہلے ہی خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے لے کر بحیرۂ احمر تک پھیل چکا ہے، اور صورتحال مزید بگڑنے کی صورت میں بحرِ ہند میں بھی ایک نیا محاذ کھل سکتا ہے۔

میجر جنرل صفوی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے امریکا اور اسرائیل کے کسی بھی ممکنہ نئے حملے کی صورت میں بدترین حالات اور ہر قسم کے حالات کار سے نبردآزما ہونے کے لیے جامع دفاعی منصوبے تیار کر رکھے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نئی جنگ کی صورت میں بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب کے اسٹریٹجک مرکز پر دباؤ میں مزید شدت آئے گی۔ اس کے علاوہ انہوں نے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے اور اسٹریٹجک پوزیشن برقرار رکھنے پر یمن کے حوثی گروپ کی تعریف بھی کی۔