LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
مڈ ٹرم انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں مزید کمی، ریپبلکنز کے لیے خدشات بڑھ گئے ایران کا اقوام متحدہ سے امریکا اور اسرائیل کی دھمکیاں رکوانے کا مطالبہ سعودی و کویتی وزرائے خارجہ کی حوثی حملوں اور دھمکیوں کی مذمت یمن کی مسلح افواج کے 700 سے زائد حملے، سیکڑوں حوثی جنگجو ہلاک، متعدد زخمی ملتان میں یتیم بچے کو کار سے کچلنے والا ملزم مقابلے میں ہلاک حوثی باغیوں نے تہران کی ثالثی کی پیشکش کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا، ایران لاہور: مضرِ صحت دودھ پینے سے 2 سالہ بچہ جاں بحق، ایک کی حالت تشویشناک روس امریکی تجاویز سننے کیلئے تیار، لیکن سیاسی رعایتیں نہیں دیں گے: سرگئی لاوروف پوتن اور امریکی حکام کی جلد ملاقات متوقع، روس کا جوہری تخفیف اسلحہ پر مذاکرات بحال کرنے پر زور حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا حملہ کرکے بچ نکلنے کا دور ختم ہوچکا، جارحیت کا بھرپور جواب دینگے: ایران مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے وزیراعظم شہباز شریف نے آٹو پالیسی 2026-2031 کی منظوری دے دی راؤل کاسترو کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے پر روس کی امریکا پر شدید تنقید روس کے یوکرین پر رات گئے ڈرون حملے، لاجسٹکس مراکز اور بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

امریکی صدر کا یمنی حوثیوں کے خلاف کارروائی سے پھر انکار

Web Desk

12 September 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمنی حوثیوں کے خلاف براہِ راست عسکری کارروائی سے انکار کرتے ہوئے امریکی فوج کو تمام تر ترجیحات ایران اور آبنائے ہرمز کی صورتِ حال پر مرکوز رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ (Axios) کی رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک ہی روز میں دو بار ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں سعودی ولی عہد نے امریکا سے یمنی حوثیوں پر باقاعدہ حملے کرنے کی درخواست کی تھی۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے سعودی عرب کا دورہ کر کے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں طے پایا کہ اگرچہ امریکا حوثیوں کے خلاف خود براہِ راست فضائی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا، تاہم وہ سعودی عرب کو حوثیوں سے متعلق انٹیلی جنس معلومات (Intelligence Sharing) فراہم کرتا رہے گا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پینٹاگون اس وقت صرف بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کی آزادانہ آمدورفت اور تحفظ یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔