LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار کا ایرانی اور مصری وزرائے خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا کے عوام نے انتشاری ٹولے کو مسترد کردیا: امیر مقام مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب خواجہ آصف نے یوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت بارے سوالات اٹھا دیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متنازع نہ بنایا جائے: بلاول بھٹو مالدیپ کے صدر 20 اکتوبر کو پاکستان آئیں گے، کئی معاہدے و مفاہمتی یادداشتیں متوقع امریکا کا ایران سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرنے کی قابلِ تصدیق ضمانت کا مطالبہ پنجاب میں لیب ٹاپ اور اسکالرشپ سکیم فیز ٹو کا آغاز کر دیا: عظمیٰ بخاری دانش سکول امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کرنے کی کوشش ہے: شہباز شریف وزیراعظم نے اسلام آباد میں دانش سکول کاافتتاح کردیا نجران میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، سعودی اتحادی فوج کے 2 ارکان جاں بحق مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضہ گیروں کا یورپی سفارت کاروں پر حملہ نومبر تک کیلیے توانائی ضروریات کا انتظام کر لیا، وزیرخزانہ اسرائیل; عرب دنیا کے صحافیوں کی جاسوسی کا سب سے خطرناک اسکینڈل سامنے آ گیا سان فرانسسکو؛ مغربی ساحل پر پاک-امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 کا کامیاب انعقاد

امریکی بحریہ کے طویل مشن کے دوران آٹھ اہلکاروں کی خودکشی کی کوشش

Web Desk

24 September 2026

امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری ہَنگ کاؤ نے ایک سینیٹر کے نام خط میں انکشاف کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں طویل اور کٹھن تعیناتی کے دوران طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس ابراہم لنکن’ (USS Abraham Lincoln) سے وابستہ عملے کے آٹھ اہلکاروں نے خودکشی کی کوشش کی۔ یہ انکشاف نیویارک سے تعلق رکھنے والی سینیٹر کرسٹن گلیبرانڈ کو لکھے گئے خط میں کیا گیا جنہوں نے جہاز پر تعینات فوجیوں کی فلاح و بہبود اور ذہنی صحت کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

متاثرہ بحری جہاز گزشتہ سال نومبر میں کیلیفورنیا سے روانہ ہوا تھا اور ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں طویل عرصے تک مشرقِ وسطیٰ میں مقیم رہا۔ اس کی تعیناتی مئی میں ختم ہونا تھی لیکن مشن میں بار بار توسیع کی گئی، یہاں تک کہ اگست میں یو ایس ایس جارج واشنگٹن کی آمد پر اسے واپس امریکہ روانہ کیا گیا۔ ہَنگ کاؤ نے اپنے خط میں واضح کیا کہ خودکشی کی کوشش کرنے والے یہ آٹھ افراد صرف جہاز کے اپنے عملے تک محدود نہیں تھے بلکہ ان میں فضائی ونگ، سٹرائیک گروپ، ڈسٹرائرز اور دیگر معاون یونٹس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ بحریہ نے پلمبنگ کے نظام کی خرابی، سمندری پانی کو میٹھا کرنے والے پلانٹس کے مسائل اور خوراک کے محدود انتخاب جیسے چند نقصانات کا اعتراف کیا، تاہم بڑے پیمانے پر ذہنی صحت کے بحران کے تاثر کو مسترد کیا۔

دوسری جانب، سینیٹر کرسٹن گلیبرانڈ نے انتظامیہ کے ابتدائی ردعمل کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ فوجیوں کو جن سنگین مسائل کا سامنا تھا انہیں “جعلی خبریں” قرار دینا قطعی ناقابلِ قبول ہے۔ ماہرین کے مطابق طویل تعیناتیوں، مسلسل شور، سخت ڈیوٹی شیڈول اور مناسب آرام کی کمی کے باعث بحری جہازوں پر تعینات اہلکار امریکی فوج کی دیگر شاخوں کے مقابلے میں شدید ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔