LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا سے مذاکرات میں اب بھی بڑا فاصلہ موجود ہے، ایرانی اسپیکر واشنگٹن:ایران صورتحال پر اہم اجلاس، صدر ٹرمپ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فون پر گفتگو خلیج میں لنگرانداز جہاز  حرکت نہ کریں ، پاسداران انقلاب کی سخت وارننگ ڈیزل سے بھرا پاکستانی جہاز آبنائے ہرمز سے داخل ہوکر واپس لوٹ گیا ضلعی انتظامیہ نے اسلام آباد میں دکانیں اور بس اڈے بند ہونے کی خبروں کی تردید کردی فیلڈمارشل عاصم منیرکی تہران آمدپرپیش کردہ امریکی تجاویزکاجائزہ لے رہےہیں، ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل امریکا سے مذاکرات کےدوسرے مرحلے کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی، ایرانی نائب وزیرخارجہ اچھے مذاکرات چل رہے ہیں، ایران آبنائے ہرمز کےذریعے بلیک ملیک نہیں کرسکتا، ٹرمپ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر کی ادائیگی کردی ایرانی بحریہ دشمنوں کو شکست دینے کےلیے تیارہے، مجتبیٰ خامنہ ای امریکی کی جانب سے اعتماد کی بار بار خلاف ورزی، آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندی عائد ہر طرف بدانتظامی، اس سال برآمدات میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا: ایس ایم تنویر عوام کے لیے بڑی خوشخبری: لائٹ ڈیزل 70 روپے اور جیٹ فیول 23 روپے سے زائد سستا وزیراعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کرکے انطالیہ سے پاکستان روانہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران مکمل، خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق

صدر ٹرمپ ایران کے معاملے میں طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کریں گے: وائٹ ہاؤس

Web Desk

24 February 2026

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے معاملے میں ترجیح ہمیشہ سفارتکاری رہی ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر وہ فوجی طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کریں گے۔

ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیویٹ نے کہا کہ ایران کے معاملات میں حتمی فیصلہ امریکی صدر کے اختیار میں ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو آج کانگریس کی اہم قیادت کو ایران کے حوالے سے موجودہ صورتحال پر بریفنگ دیں گے۔ رائٹرز کے ایک باخبر ذرائع نے بتایا کہ وہ قانون سازوں کو ایران کی تازہ پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے 19 فروری کو ایران کو مذاکرات کے لیے 10 سے 15 دن کی مہلت دی تھی۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کانگریس سے خطاب کے دوران وہ ایران کے جوہری پروگرام اور ممکنہ فوجی کارروائی کے حوالے سے اپنا موقف بھی پیش کریں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے اور عالمی سکیورٹی اور اقتصادی حالات پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔