غیرملکیوں کے ویزوں کی میعاد میں کمی، امریکی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کا نیا قانون روک دیا
Web Desk
16 September 2026
امریکی وفاقی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے غیر ملکی طلبہ، محققین اور صحافیوں کے لیے امریکہ میں قیام کی مدت محدود کرنے کے نئے قانون کے نفاذ کو روک دیا ہے۔ بوسٹن کی وفاقی عدالت کے جج ایس ڈینس سیلر نے جامعات اور مختلف یونینز کے اتحاد کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے یہ پالیسی انتہائی کمزور اور غیر معقول جواز کی بنیاد پر مرتب کی ہے اور اس سے ممکنہ معاشی نقصان اور متبادل حل کا جائزہ نہیں لیا گیا۔
سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں مقرر کیے گئے جج ڈینس سیلر نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ یہ قانون گزشتہ 50 سال سے قائم اس نظام کو ختم کر دے گا جس کے تحت غیر ملکی طلبہ کو تعلیمی دورانیے تک امریکہ میں قیام کی اجازت ملتی ہے۔ نئے قانون میں طلبہ (F) اور تبادلۂ ثقافت (J) ویزوں کی مدت زیادہ سے زیادہ چار سال جبکہ صحافیوں (I) کے ویزے کی مدت صرف 240 روز تک محدود کی گئی تھی۔ جج نے واضح کیا کہ اس فیصلے سے ہارورڈ اور ایم آئی ٹی جیسی نامور جامعات کو شدید مالی نقصان ہوگا اور امریکی معیشت، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیمی نظام پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔
متعلقہ عنوانات
سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن دوبارہ فعال کردی
22 September 2026
ایران نے امریکا کو سات روز میں آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش کردی
22 September 2026
این ایف سی میں خیبرپختونخوا کو انسداد دہشتگردی کیلئے ڈیڑھ سوارب سے زائد ملے: عطا تارڑ
22 September 2026
بیرسٹر گوہر کی راجہ ناصر عباس سے ملاقات: 27 ستمبر لانگ مارچ اور گرفتاریوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر تبادلہ خیال
22 September 2026
عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا مزید سستا ہوگیا
22 September 2026
اسلام آباد: مفاہمت کا راستہ کبھی بند نہیں کیا، 27 ستمبر کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا: بیرسٹر گوہر
22 September 2026
جماعت اسلامی کا لانگ مارچ اکتوبر کے پہلے ہفتے تک موخر کرنے کا اعلان
22 September 2026
ایف بی آر کے گودام سے 25 کروڑ روپے کے سگریٹ غائب، مقدمہ درج
22 September 2026