غیرملکیوں کے ویزوں کی میعاد میں کمی، امریکی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کا نیا قانون روک دیا
Web Desk
16 September 2026
امریکی وفاقی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے غیر ملکی طلبہ، محققین اور صحافیوں کے لیے امریکہ میں قیام کی مدت محدود کرنے کے نئے قانون کے نفاذ کو روک دیا ہے۔ بوسٹن کی وفاقی عدالت کے جج ایس ڈینس سیلر نے جامعات اور مختلف یونینز کے اتحاد کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے یہ پالیسی انتہائی کمزور اور غیر معقول جواز کی بنیاد پر مرتب کی ہے اور اس سے ممکنہ معاشی نقصان اور متبادل حل کا جائزہ نہیں لیا گیا۔
سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں مقرر کیے گئے جج ڈینس سیلر نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ یہ قانون گزشتہ 50 سال سے قائم اس نظام کو ختم کر دے گا جس کے تحت غیر ملکی طلبہ کو تعلیمی دورانیے تک امریکہ میں قیام کی اجازت ملتی ہے۔ نئے قانون میں طلبہ (F) اور تبادلۂ ثقافت (J) ویزوں کی مدت زیادہ سے زیادہ چار سال جبکہ صحافیوں (I) کے ویزے کی مدت صرف 240 روز تک محدود کی گئی تھی۔ جج نے واضح کیا کہ اس فیصلے سے ہارورڈ اور ایم آئی ٹی جیسی نامور جامعات کو شدید مالی نقصان ہوگا اور امریکی معیشت، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیمی نظام پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔
متعلقہ عنوانات
حوثیوں کے حکومتی فورسز کے تربیتی کیمپ پر تین میزائل حملے، 53 افراد جاں بحق
19 October 2026
جرمنی کا یہودی شخصیات کے قتل کی مبینہ سازش پر ایرانی سفیر سے سخت احتجاج
19 October 2026
ایلون مسک کا اگلے سال امریکہ کے ہر بچے کو سپیس ایکس کے حصص دینے کا اعلان
19 October 2026
جنگ کے اخراجات نے ایران کے دشمنوں کو مایوسی سے دوچار کر دیا: محمد مخبر
19 October 2026
نومنتخب سعودی سفیر کی جی ایچ کیو آمد: فیلڈ مارشل سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال
19 October 2026
ٹرمپ کی جانب سے روس پر مجوزہ پابندیاں ختم کرنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی
19 October 2026
قطر نے ہمیشہ مذاکرات کو ترجیح دی، پاکستان سفارتی کوششوں کو سراہتا ہے: محسن نقوی
19 October 2026
پاور اور گیس شعبوں کا مجموعی گردشی قرضہ 5306 ارب روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
19 October 2026