LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس 250 پوائنٹس بڑھ گیا اہم سائبر سکیورٹی اپ ڈیٹ کے بعد دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس عارضی طور پر بند بیرون ملک بیٹھے یوٹیوبرز پی ٹی آئی کے سب سے بڑے دشمن ہیں: خواجہ آصف مریم نواز کا خواتین اور بچوں کے خلاف بڑھتے جرائم پر اظہار برہمی امریکا اوراسرائیل کا وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر شدید حملے کا منصوبہ جماعت اسلامی کا پٹرولیم لیوی کے خاتمے کیلئے کل ملک گیر احتجاج کا اعلان سعودی آرامکو آئل فیلڈ اور دمام ایئرپورٹ پر حملے، 3 افراد ہلاک، 8 زخمی پاکستان کو قطر سے اکتوبر کا دوسرا ایل این جی کارگو موصول افغان طالبان اہلکاروں کی چینی سرحد پر بھی دراندازی کی کوشش، چین کی سخت تنبیہ امریکا کو آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات کیلئے شرائط پوری کرنی ہونگی: ایران کا دو ٹوک مؤقف ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی ریلی میں مخالف نعرے لگنا معمول بن گیا محمد باقر کی مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات، جنگ کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال دبئی میں او بی ایس گلوبل کی افتتاحی تقریب، عالمی کاروباری روابط کے نئے دور کا آغاز واشنگٹن نے مذاکرات کے دوران ایران پر 2 مرتبہ حملے کئے: اسماعیل بقائی فرانس میں پرتشدد مظاہرے، لوٹ مار، پیرس کے اہم علاقوں میں احتجاج پر پابندی عائد

روس یوکرین جنگ کے خاتمے کیلئے امریکی سفارتی کوششیں تیز، وِٹکوف اور کشنر کیف پہنچ گئے

Web Desk

6 September 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بالترتیب خصوصی نمائندے اسٹیو وِٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ماسکو میں اہم بات چیت کے بعد یوکرین کے دارالحکومت کیف پہنچ گئے ہیں۔ فروری 2022ء میں جنگ کے آغاز کے بعد امریکی وفد کا کیف کا یہ پہلا باضابطہ دورہ ہے۔ کیف پہنچنے پر اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی، جبکہ اس موقع پر امریکی وفد نے تاریخی ‘سینٹ صوفیہ کیتھیڈرل’ کا دورہ بھی کیا جو حال ہی میں روسی حملوں سے متاثر ہوا تھا۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے واضح کیا کہ یوکرین جنگ کے خاتمے اور باوقار و پائیدار امن کے لیے مذاکرات پر تیار ہے، تاہم اس کے لیے مضبوط سیکیورٹی ضمانتیں اور تجاویز اہم ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر اور وفد کا شکریہ بھی ادا کیا۔

یوکرینی صدارتی دفتر کے ترجمان کے مطابق اس اہم موقع پر فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے نمائندے بھی کیف میں موجود ہیں تاکہ مفاہمتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔ دوسری جانب، اس اعلیٰ سطح کے سفارتی مشن کے دوران ماسکو اور کیف کے لیے 72 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی نافذ کی گئی ہے، تاکہ دونوں دارالحکومتوں پر ہوائی حملے نہ ہوں۔ تاہم اس جنگ بندی کا دائرہ کار صرف دونوں دارالحکومتوں تک محدود رہنے کی وجہ سے روس نے یوکرین کے دیگر خطوں میں اپنے ڈرون اور میزائل حملے جاری رکھے