LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا نے سی آئی اے مراکز پر ایرانی حملوں میں روس کے ممکنہ کردار کی تحقیقات شروع کر دیں امریکا نے ایران کیخلاف ممکنہ کارروائی کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ میں خصوصی فوجی دستوں کی تعیناتی شروع کردی آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر دھماکے سے تباہ، 2 واپس لوٹ گئے: پاسداران انقلاب گیانا، مسافروں سے بھری فیری سمندر میں ڈوب گئی، 41 افراد ہلاک، درجنوں لاپتہ ایران کی جانب سے آنے والے ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کردیا: کویت انصار اللہ کا سعودی عرب کے 2 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ سیریک، اہواز اور بوشہر میں دھماکے سنے گئے ہیں، ایرانی میڈیا امریکی فوج نے ایران پر مزید شدید فضائی حملے شروع کر دیے امریکا نے آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کا دعویٰ مسترد کر دیا امریکی ایوان نمائندگان میں قومی دفاعی اختیارات سے متعلق بل کثرت رائے سے منظور یورپ جارحیت کی پیروی کی بجائے سفارتکاری میں قائدانہ کردار ادا کرے، کاظم غریب آبادی یمنی حوثی گروپ نے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں کی تیاریاں مکمل کر لیں ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، عراقچی پیپلزپارٹی نے سعد رفیق کا بیان غیر ذمہ دارانہ، قومی یکجہتی کیخلاف قرار دیدیا امریکا نے کوئی غلطی کی تو نتائج عالمی معیشت کو بھی متاثر کریں گے، علی اکبر ولایتی

امریکا نے ایران کیخلاف ممکنہ کارروائی کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ میں خصوصی فوجی دستوں کی تعیناتی شروع کردی

Web Desk

23 July 2026

امریکہ نے ایران کے خلاف باقاعدہ عسکری کارروائیوں اور ممکنہ حملوں کی شدت میں مزید اضافے کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں اپنی اسپیشل آپریشنز فورسز، اضافی عسکری دستوں اور بھاری اسلحے کی ہنگامی تعیناتی کا آغاز کر دیا ہے۔

امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پینٹاگون نے مشرقِ وسطیٰ میں مزید جنگی دستے، خصوصی طبی عملہ اور بھاری گولہ بارود بھیجنا شروع کر دیا ہے تاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف سخت ترین فوجی آپشنز اور اہداف کے انتخاب میں مکمل لچک اور قوت فراہم کی جا سکے۔

رپورٹ اور فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکی ‘اسپیشل آپریشنز فورسز’ کے خصوصی یونٹس اپنے امریکی اڈوں سے منتقل ہو کر مشرقِ وسطیٰ میں قائم عسکری اڈوں پر پہنچ چکے ہیں، جس کی امریکی حکام نے بھی باضابطہ تصدیق کی ہے۔

علاوہ ازیں، جدید لڑاکا طیاروں کے متعدد اسکواڈرنز کو مشرقِ وسطیٰ کے مختلف حکمتِ عملی کے لحاظ سے اہم مقامات پر تعینات کر دیا گیا ہے، جبکہ امریکہ اور برطانیہ میں قائم سٹریٹیجک فوجی اڈوں پر موجود بی-52 اور بی-2 بمبار طیاروں کو انتہائی اعلیٰ ترین (ہائی) الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے تاکہ صدر کے حکم پر فوراً ہنگامی کارروائی کی جا سکے۔

واضح رہے کہ یہ تمام تر عسکری تیاری اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کو ایران پر “جہنم کے دروازے کھولنے” کا باقاعدہ حکم جاری کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو اس کی غلطیوں کی بڑی قیمت ادا کرنا پڑے گی اور امریکی حملے بغیر کسی وقفے کے مسلسل جاری رہیں گے۔