LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
انتظامی یونٹس میں اضافہ پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے: خالد مقبول صدیقی امریکا شرائط مانے تو چھٹے روز آبنائے ہرمز کھلے گا، ساتویں روز مذاکرات ہونگے: ایران خیبر پختونخوا کی معدنیات عوام کی ہیں اور رہیں گی: طارق فضل چودھری اسحاق ڈار کا ایرانی اور مصری وزرائے خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا کے عوام نے انتشاری ٹولے کو مسترد کردیا: امیر مقام مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب خواجہ آصف نے یوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت بارے سوالات اٹھا دیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متنازع نہ بنایا جائے: بلاول بھٹو مالدیپ کے صدر 20 اکتوبر کو پاکستان آئیں گے، کئی معاہدے و مفاہمتی یادداشتیں متوقع امریکا کا ایران سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرنے کی قابلِ تصدیق ضمانت کا مطالبہ پنجاب میں لیب ٹاپ اور اسکالرشپ سکیم فیز ٹو کا آغاز کر دیا: عظمیٰ بخاری دانش سکول امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کرنے کی کوشش ہے: شہباز شریف وزیراعظم نے اسلام آباد میں دانش سکول کاافتتاح کردیا نجران میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، سعودی اتحادی فوج کے 2 ارکان جاں بحق مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضہ گیروں کا یورپی سفارت کاروں پر حملہ

امریکا اور چین کا 30 ارب ڈالر کی اشیاء پر ٹیرف کم کرنے کا فیصلہ

Web Desk

27 September 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی تین روزہ اہم سربراہی ملاقات کے بعد امریکا اور چین نے تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑے پیشرفت کرتے ہوئے 30 ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر عائد ٹیرف میں کمی اور مصنوعی ذہانت (AI) سے متعلق باقاعدہ مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں اقتصادی قوتوں نے دونوں اطراف سے 30 ارب ڈالر مالیت کی غیر حساس اشیا کے لیے زیادہ سازگار اور لچکدار ٹیرف پالیسی اپنانے کی سفارشات پر اتفاق کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت امریکا سے چین برآمد ہونے والی زرعی مصنوعات، لکڑی اور کاسمیٹکس جبکہ چین سے امریکا درآمد ہونے والی چھوٹی گھریلو اشیا، کھلونے اور آرائشی سامان اس ٹیرف ریلیف کا حصہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ، تجارتی تنازعات اور امور پر مسلسل رابطے کے لیے ایک نئی ٹریڈ کونسل قائم کرنے اور کوالالمپور میں ہونے والے سابقہ مذاکرات کے فیصلوں کو آگے بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور اہم پیشرفت کے تحت امریکا اور چین نے مصنوعی ذہانت کے فوائد اور اس کے ممکنہ خطرات پر باقاعدہ مذاکرات کا آغاز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس سلسلے میں آئندہ مذاکرات نومبر میں ہوں گے، جبکہ مصنوعی ذہانت سے جڑے کسی بھی ہنگامی واقعے یا خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی رابطہ چینل بھی قائم کیا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اب روایتی مصنوعی ذہانت کے بجائے ’سپر انٹیلی جنس‘ کی اصطلاح استعمال کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے جسے چین کی جانب سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا ہے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اس موقع پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صدر شی جن پنگ کا یہ دورۂ امریکا دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نیا باب کھولنے اور دوطرفہ سیاسی و معاشی روابط کو مجموعی طور پر استحکام بخشنے میں انتہائی معاون ثابت ہوگا۔ یاد رہے کہ چینی صدر شی جن پنگ اپنا تین روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد بیجنگ واپس پہنچ گئے ہیں۔