امریکی عدالت کا ٹرمپ انتظامیہ کو ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی اجازت دینے سے انکار
Web Desk
11 September 2026
امریکی ریاست بوسٹن میں قائم وفاقی اپیل عدالت (فرسٹ یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز) نے ٹرمپ انتظامیہ کی وہ درخواست مسترد کر دی ہے جس میں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ (Mail-in Voting) کے نئے اور سخت قواعد نافذ کرنے کی اجازت مانگی گئی تھی۔ عدالت کے تین رکنی بنچ نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس نے امریکی پوسٹل سروس کو ان قواعد پر عمل درآمد سے روک دیا تھا۔ یہ فیصلہ امریکہ میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) سے ٹھیک پہلے سامنے آیا ہے، جس سے انتظامیہ کے انتخاب سے قبل انتخابی اصلاحات لاگو کرنے کے منصوبے کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔
صدر ٹرمپ کی ہدایت پر تیار کردہ ان متنازع قواعد و ضوابط کا بنیادی مقصد میل ان بیلٹ کے طریقہ کار کو مزید سخت بنانا تھا، تاہم ناقدین اور نچلی عدالتوں نے انہیں ووٹرز کی سہولت کے منافی قرار دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک غیر معمولی قانون دانانہ قدم اٹھاتے ہوئے اپیل عدالت کے حتمی حکم کا انتظار کیے بغیر ہی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی تھی تاکہ نچلی عدالت کے امتناعی حکم کو منسوخ کرایا جا سکے۔ اب اس حساس معاملے کا حتمی فیصلہ امریکی سپریم کورٹ کرے گی، جہاں 6-3 کی قدامت پسند اکثریت موجود ہے۔
متعلقہ عنوانات
ٹرمپ انتظامیہ پیر کو بڑے بینک کے خلاف پابندیاں عائد کرے گی، امریکی وزیر خزانہ
11 September 2026
واشنگٹن کے تمام اقدامات تیل کی قیمتوں میں اضافہ روکنے میں ناکام رہے ہیں، باقر قالیباف
11 September 2026
آئی اے ای اے کی ایران کے خلاف قرارداد غیر قانونی اور سیاسی ہے، محسن رضائی
11 September 2026
بانی پاکستان بابائے قوم قائداعظم محمدعلی جناحؒ کی 78 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے
11 September 2026
کینیڈا کا یوکرین کیلئے 35 کروڑ ڈالر کے دفاعی امدادی پیکیج، میزائل فراہم کرنے کا اعلان
11 September 2026
وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر کے خط کا جواب بھجوا دیا، آئین پر عملدرآمد کی یقین دہانی
11 September 2026
حوثیوں نے باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا، انصار اللہ کا دعویٰ
11 September 2026
بحیرہ احمر اور باب المندب میں آمدورفت، تجارت معمول کے مطابق جاری ہے: ترجمان حوثی باغی
11 September 2026