LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ انتظامیہ پیر کو بڑے بینک کے خلاف پابندیاں عائد کرے گی، امریکی وزیر خزانہ واشنگٹن کے تمام اقدامات تیل کی قیمتوں میں اضافہ روکنے میں ناکام رہے ہیں، باقر قالیباف آئی اے ای اے کی ایران کے خلاف قرارداد غیر قانونی اور سیاسی ہے، محسن رضائی بانی پاکستان بابائے قوم قائداعظم محمدعلی جناحؒ کی 78 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے کینیڈا کا یوکرین کیلئے 35 کروڑ ڈالر کے دفاعی امدادی پیکیج، میزائل فراہم کرنے کا اعلان وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر کے خط کا جواب بھجوا دیا، آئین پر عملدرآمد کی یقین دہانی حوثیوں نے باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا، انصار اللہ کا دعویٰ بحیرہ احمر اور باب المندب میں آمدورفت، تجارت معمول کے مطابق جاری ہے: ترجمان حوثی باغی یمن نے ساحلی علاقوں کا تحفظ عرب اور بین الاقوامی ذمہ داری قرار دیدیا ایران کی حملوں کے باوجود بیلسٹک میزائلوں کی تیاری دوبارہ شروع اسرائیل نے لبنان کی علی الطاہر پہاڑی پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی دشمن کے لاحق تمام خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں: ایرانی فوج امریکا کی ایران کے حامی گروہوں کی مالی معاونت پر نئی پابندیاں عائد لندن میں ایرانی انٹیلی جنس کی مدد کے شبہ میں خاتون اور ایک شخص گرفتار امریکی عدالت کا ٹرمپ انتظامیہ کو ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی اجازت دینے سے انکار

امریکی عدالت کا ٹرمپ انتظامیہ کو ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی اجازت دینے سے انکار

Web Desk

11 September 2026

امریکی ریاست بوسٹن میں قائم وفاقی اپیل عدالت (فرسٹ یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز) نے ٹرمپ انتظامیہ کی وہ درخواست مسترد کر دی ہے جس میں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ (Mail-in Voting) کے نئے اور سخت قواعد نافذ کرنے کی اجازت مانگی گئی تھی۔ عدالت کے تین رکنی بنچ نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس نے امریکی پوسٹل سروس کو ان قواعد پر عمل درآمد سے روک دیا تھا۔ یہ فیصلہ امریکہ میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) سے ٹھیک پہلے سامنے آیا ہے، جس سے انتظامیہ کے انتخاب سے قبل انتخابی اصلاحات لاگو کرنے کے منصوبے کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔

صدر ٹرمپ کی ہدایت پر تیار کردہ ان متنازع قواعد و ضوابط کا بنیادی مقصد میل ان بیلٹ کے طریقہ کار کو مزید سخت بنانا تھا، تاہم ناقدین اور نچلی عدالتوں نے انہیں ووٹرز کی سہولت کے منافی قرار دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک غیر معمولی قانون دانانہ قدم اٹھاتے ہوئے اپیل عدالت کے حتمی حکم کا انتظار کیے بغیر ہی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی تھی تاکہ نچلی عدالت کے امتناعی حکم کو منسوخ کرایا جا سکے۔ اب اس حساس معاملے کا حتمی فیصلہ امریکی سپریم کورٹ کرے گی، جہاں 6-3 کی قدامت پسند اکثریت موجود ہے۔