LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ انتظامیہ پیر کو بڑے بینک کے خلاف پابندیاں عائد کرے گی، امریکی وزیر خزانہ واشنگٹن کے تمام اقدامات تیل کی قیمتوں میں اضافہ روکنے میں ناکام رہے ہیں، باقر قالیباف آئی اے ای اے کی ایران کے خلاف قرارداد غیر قانونی اور سیاسی ہے، محسن رضائی بانی پاکستان بابائے قوم قائداعظم محمدعلی جناحؒ کی 78 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے کینیڈا کا یوکرین کیلئے 35 کروڑ ڈالر کے دفاعی امدادی پیکیج، میزائل فراہم کرنے کا اعلان وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر کے خط کا جواب بھجوا دیا، آئین پر عملدرآمد کی یقین دہانی حوثیوں نے باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا، انصار اللہ کا دعویٰ بحیرہ احمر اور باب المندب میں آمدورفت، تجارت معمول کے مطابق جاری ہے: ترجمان حوثی باغی یمن نے ساحلی علاقوں کا تحفظ عرب اور بین الاقوامی ذمہ داری قرار دیدیا ایران کی حملوں کے باوجود بیلسٹک میزائلوں کی تیاری دوبارہ شروع اسرائیل نے لبنان کی علی الطاہر پہاڑی پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی دشمن کے لاحق تمام خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں: ایرانی فوج امریکا کی ایران کے حامی گروہوں کی مالی معاونت پر نئی پابندیاں عائد لندن میں ایرانی انٹیلی جنس کی مدد کے شبہ میں خاتون اور ایک شخص گرفتار امریکی عدالت کا ٹرمپ انتظامیہ کو ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی اجازت دینے سے انکار

لندن میں ایرانی انٹیلی جنس کی مدد کے شبہ میں خاتون اور ایک شخص گرفتار

Web Desk

11 September 2026

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں میٹروپولیٹن پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم کمانڈ نے ایران کی انٹیلی جنس سروس کے لیے مبینہ سہولت کاری اور مدد کے شبہ میں ایک خاتون اور ایک مرد کو گرفتار کر لیا ہے۔ برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ 42 سالہ خاتون اور 60 سالہ شخص کو ملک کے نیشنل سیکیورٹی ایکٹ (National Security Act) کے تحت حراست میں لیا گیا، جن پر غیر ملکی استخباراتی ادارے کے ساتھ سیکیورٹی کے منافی تعاون کے شدید الزامات ہیں۔

میٹروپولیٹن پولیس کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ابتدائی تفتیش اور بازپرس کے بعد دونوں زیرِ حراست افراد کو سخت قانونی اور حفاظتی شرائط کے تحت اکتوبر کے آخر تک ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔ برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ لندن میں حساس قومی سلامتی کے خطرات اور غیر ملکی انٹیلی جنس نیٹ ورکس کے خلاف تحقیقاتی عمل مکمل شفافیت اور سنجیدگی کے ساتھ جاری رہے گا۔