LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بھارتی آبی جارحیت پر ٹاسک فورس قائم کریں گے: مراد علی شاہ ’60 فیصد سے زائد امریکی عوام ایران امریکا امن معاہدے کے حامی ہیں’، ٹرمپ نے سروے نتائج شیئر کردیے بحیرہ جنوبی چین میں جھڑپ، چین اور فلپائن کے فوجی آپس میں گتھم گتھا، ویڈیو وائرل گیس سیکٹر کے گردشی قرضے پر آئی ایم ایف کی نئی شرائط پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی افغان طالبان رجیم میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں، عالمی سطح پر آوازیں اٹھنے لگیں بھارتی نوجوان یک زبان، کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں مودی کے استعفیٰ کا مطالبہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چناب میں خانکی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی قیمتوں نے حصص بازاروں کو ہلا کر رکھ دیا طلبہ کی مدد کیلئے مصنوعی ذہانت سے چلنے والا انسانی روبوٹ متعارف امریکا کے مسلسل دسویں رات حملے، ایران کی کویت اور بحرین میں جوابی کارروائی پہلی بار AI نے دوسری اے آئی کمپنی کو ہیک کر دیا گوگل نے اینڈرائیڈ 16 میں سکیورٹی خامی کی تصدیق کر دی سابقہ وطن واپسی پر ملالہ یوسفزئی کی سالگرہ کی تقریب: تعلیم اور لڑکیوں کے حقوق کے عزم کا اعادہ بھارت: یونیورسٹی داخلہ امتحانات میں دھاندلی کے خلاف ہزاروں طلباء سڑکوں پر نکل آئے، نوجوانوں میں شدید غم و غصہ

لبنان اور اسرائیل کے درمیان مفاہمتوں پر عمل درآمد شروع، سکیورٹی زونز قائم

Web Desk

20 July 2026

امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والی مفاہمتوں اور جنگ بندی فریم ورک پر عمل درآمد کا مرحلہ باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں جنوبی لبنان کے تین اہم علاقوں فروّن، سریفا اور زوتر الغربیہ میں تجرباتی سکیورٹی زونز کو فعال کر دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق، ان مخصوص زونز کے قیام کا بنیادی مقصد مقامی سطح پر سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانا، دونوں ممالک کے درمیان طویل کشیدگی میں کمی لانا اور اعتماد سازی کو فروغ دینا ہے۔

محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ ان تجرباتی زونز کے نتائج کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا اور کامیابی کی صورت میں مستقبل میں اس ماڈل کو دیگر سرحدی علاقوں تک بھی توسیع دی جا سکتی ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ جنوبی لبنان میں امن و استحکام پورے مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اور امریکہ اس فریم ورک پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے لبنان اور اسرائیل دونوں حکومتوں کے ساتھ قریبی اور مسلسل رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہے