LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ماہانہ بنیادوں پر ہوشربا اضافہ آرمینیا کی ایران کی سلامتی کے خلاف کوئی اقدام نہ کرنے کی یقین دہانی پاکستان اور ورلڈ بینک کا سرمایہ کاری، روزگار کیلئے تعاون بڑھانے پر اتفاق اشرافیہ نے پورے معاشرے کو یرغمال بنا رکھا ہے: حافظ نعیم الرحمان امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود ایران جیٹ فیول میانمار پہنچانے میں کامیاب افغانستان میں لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندی کے پانچ سال مکمل گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ شدید ناراض ہیں: محسن نقوی وزیر خزانہ کی عالمی مالیاتی اداروں سے ملاقاتیں، برآمدات میں اضافے پر زور پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری و سلامتی کیلئے شانہ بشانہ کھڑا ہے: وزیراعظم مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں ماحولیاتی نسل کشی کے مترادف ہیں: ایرانی صدر گورنر فیصل کریم کنڈی کا خیبر پختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان حوثی ملیشیا کے ایئرپورٹ حملوں پر سعودی التحالف کا بڑا ایکشن: 127 ذخیرہ گاہیں تباہ، حوثی صلاحیتیں ختم کرنے کا اعلان برین ڈرین کا بحران: گزشتہ 3 سالوں میں 18 لاکھ 71 ہزار سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی بیرونِ ملک منتقل خیبرپختونخوا میں گورنر راج غیر آئینی ہے، پرامن اور قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے: محمود خان اچکزئی Slug: افغان طلبہ کا میڈیکل کالجوں سے اخراج کا معاملہ: لاہور ہائیکورٹ کی حکمِ امتناعی میں توسیع

افغانستان میں لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندی کے پانچ سال مکمل

Web Desk

16 October 2026

افغانستان میں طالبان حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر عائد پابندی کو پانچ سال مکمل ہو چکے ہیں اور چھٹی جماعت سے آگے طالبات کی تعلیم کا سلسلہ تاحال معطل ہے۔ اس دوران اقوام متحدہ کے افغانستان مشن (یوناما) نے یکم جولائی سے 30 ستمبر 2026 تک کی سہ ماہی انسانی حقوق کی رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران حجاب کے نام پر خواتین کی گرفتاریوں کے 50 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے جن میں ایک 13 سالہ بچی بھی شامل ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس دوران 28 افراد کو کوڑوں کی سزائیں دی گئیں جبکہ سابق حکومتی و سیکیورٹی اہلکاروں کی گرفتاریاں اور ہلاکتیں بھی جاری ہیں۔ یوناما کے مطابق طالبان ترجمان نے دفاتر میں خواتین کے کام کرنے کے حق سے صاف انکار کر دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے دفاتر میں بھی افغان خواتین کے داخلے پر پابندی بدستور برقرار ہے۔