LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور سعودیہ میں سرکاری و سفارتی پاسپورٹ پر ویزا شرائط ختم حوثیوں کے حملے: برطانیہ کا سعودیہ کو دفاعی فضائی مدد فراہم کرنے کا فیصلہ فرانس کا حوثیوں سے فوجی کشیدگی ختم، امن مذاکرات میں شامل ہونے کا مطالبہ امریکا کی ایران جنگ سے متاثرہ خلیجی ممالک کو 5 ارب ڈالر کے فنڈز کی پیشکش امریکا اور ڈنمارک کی 2 نئے فوجی اڈے قائم کرنے کی منصوبہ بندی ایران جنگ نے تیل کی عالمی مارکیٹ میں نیا بحران پیدا کر دیا: امریکی میڈیا امریکی صدر اپنے سیاسی کیریئر میں مقبولیت کی کم ترین سطح پر آگئے امریکی صدر کی چینی ہم منصب سے 24 ستمبر کو واشنگٹن میں اہم ملاقات طے روس میں پارلیمانی انتخابات: پیوٹن کی حامی جماعت یونائیٹڈ رشیا کی ریکارڈ کامیابی امریکی صدر کا بیلاروس سے بڑی مقدار میں کھاد، پوٹاش خریدنے کے ممکنہ معاہدے کا اعلان روس کے یوکرین میں فضائی حملے، پولینڈ نے فضائی حدود کی نگرانی سخت کر دی مسلح تنازع: یمن میں غذائی بحران سنگین ہونے کا خدشہ، اقوام متحدہ نے خبردار کر دیا نیوزی لینڈ میں کاربن کریڈٹ حاصل کرنے کیلئے پائن کے جنگلات لگانے میں تیزی قطر کا خلیجی ممالک سے ایران سے اچھے تعلقات قائم کرنے کا مطالبہ مکہ الائنس مثبت اور بہترین انداز میں آگے بڑھ رہا ہے: ترکیہ

اقوام متحدہ کا ایران امریکا تنازع کے خاتمے کیلئے مذاکرات شروع کرنے پر زور

Web Desk

22 September 2026

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی خدشات کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستانی قیادت کا شکر یہ ادا کیا ہے۔ نیویارک میں پریس بریفنگ کے دوران اسٹیفن ڈوجارک نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قیادت فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی خطے میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

ترجمان اقوام متحدہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قیامِ امن کے لیے پاکستان کا کردار انتہائی کلیدی رہا ہے اور فریقین کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہی ایران امریکا تنازع کے حتمی خاتمے کی راہ ہموار کرے گا۔ انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والی امریکا ایران مفاہمت اور سفارتی پیش رفت کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تنازع کے پائیدار حل کے لیے بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں مسلسل جاری رہنی چاہئیں۔