LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کی اردن میں فوجی اڈے پر کارروائی کے جواب میں ایران پر شدید حملوں کی دھمکی امریکا کو خطے میں محاصرے میں لیا جانا چاہئے: نائب سپیکر ایرانی پارلیمنٹ خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنانے کی ایرانی پالیسی ناکام ہو چکی: انور قرقاش امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں ٹینکر کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا دعویٰ مسترد کردیا اسرائیل اور یونان کے درمیان 3.5 ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ طے سندھ طاس معاہدہ, پاکستان کا عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم عظیم کشمیری رہنما سید علی گیلانی کی آج پانچویں برسی منائی جارہی ہے نیدرلینڈز میں سالانہ ریڈ ہیڈ فیسٹیول، دنیا بھر سے سرخ بالوں والے افراد کی شرکت پٹرول مزید مہنگا، ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 3 پیسے کمی کردی گئی اسحاق ڈار کی ترک ہم منصب یاشار گولر سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال وزیراعظم کی چھٹے ورلڈ نومیڈ گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت، پرتپاک استقبال روس چین ویزا فری نظام مستقل کرنے پر تیار، صدر پوتن کا اعلان روس اور بیلاروس کے صدور کی ملاقات، تجارت اور عالمی امور پر گفتگو بات پکی ہوئی نہ منگنی، بلاول بھٹو بھی جعلی خبروں پر بول پڑے ایل پی جی کی قیمت میں 4 روپے 33 پیسے فی کلو اضافہ

یوکرین نے امریکی مذاکرات میں 20 نکاتی امن منصوبہ پیش کر دیا

Web Desk

24 December 2025

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لئے 20 نکاتی امن منصوبے کا مسودہ پیش کر دیا ۔ تاس کے مطابق یوکرینی صدر نے بدھ کو صحافیوں کو بریفنگ کے دوران اس منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور دعویٰ کیا کہ مسودہ بڑی حد تک یوکرین اور امریکا کے مشترکہ موقف کی عکاسی کرتا ہے جبکہ کئی اہم مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔سب سے زیادہ متنازعہ دفعات میں زیپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ سے متعلق تجویز شامل ہے، جو اس وقت مکمل طور پر روسی افواج کے زیر کنٹرول ہے۔ یوکرینی حکومت چاہتی ہے کہ یہ پلانٹ یوکرین اور امریکا مشترکہ طور پر 5050 کی بنیاد پر چلائیں جبکہ امریکی حکومت کے مجوزہ سہ فریقی انتظام میں روس بھی شامل ہے۔

منصوبے میں شامل ایک آپشن کے تحت روسی افواج کو یوکرین کے خارکوف، دنیپروپیٹروسک، سومی اور نکولائیف علاقوں سے انخلا کرنا ہو گا جبکہ روس کے ڈونیٹسک، لوگانسک، زاپوروزئے اور کھیرسون کے علاقوں میں موجودہ فرنٹ لائنز کے ساتھ جنگ کو منجمد کرنا ہوگا۔اس منصوبے میں یوکرین سے مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امن کے وقت میں 800,000 اہلکاروں کی مسلح فورس کو برقرار رکھے، باوجود اس کے کہ زیلنسکی نے پہلے تسلیم کیا تھا کہ یوکرینی حکومت درحقیقت مغربی فنانسنگ کے بغیر اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

زیلنسکی نے امریکا ، نیٹو اور یورپی ریاستوں سے “آرٹیکل 5 جیسی” حفاظتی ضمانتوں کا بھی مطالبہ کیا ہے، جس میں جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں مغربی فوجی ردعمل کا وعدہ بھی شامل ہے ۔اس تجویز کے تحت، یوکرین غیر جوہری حیثیت سے اتفاق کرے گا لیکن اسے یورپی یونین کی رکنیت میں تیزی لانے اور 800 بلین ڈالر تک کے بڑے پیمانے پر تعمیر نو کے فنڈز کی توقع ہے۔زیلنسکی نے کہا کہ معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد جلد از جلد انتخابات کرائے جائیں گے۔ روسی حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امن معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے یوکرین کی حکومت کا جائز ہونا ضروری ہے تاہم یوکرینی صدر کے منصوبے کے مطابق تمام فریقین کے فریم ورک پر متفق ہونے کے بعد ہی مکمل جنگ بندی عمل میں آئے گی۔