برطانیہ میں امیگریشن قوانین میں بڑی تبدیلیاں، ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے مستقل رہائش کی مدت 5 سے بڑھا کر 10 سال کر دی
Web Desk
2 November 2026
برطانیہ کی ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے ملک کے امیگریشن قوانین میں انتہائی اہم اور بڑی تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے مستقل رہائش (Indefinite Leave to Remain – ILR) کے نئے ضوابط متعارف کرا دیے ہیں، جس کے تحت بیشتر تارکین وطن کے لیے مستقل رہائش حاصل کرنے کی بنیادی مدت 5 سال سے بڑھا کر 10 سال کر دی گئی ہے۔ نئے نظام کے تحت اب برطانیہ میں مستقل رہائش کا حق محض قیام کی مدت کے بجائے تارکین وطن کے معاشی کردار، قانونی ذمہ داریوں کی پاسداری اور برطانوی معاشرے میں انضمام سے مشروط ہوگا۔
نئے اعلانات کے مطابق بیشتر تارکین وطن کے لیے مستقل رہائش کا انتظار اب 5 کے بجائے 10 سال ہو گا، تاہم سالانہ 50,271 برطانوی پاؤنڈز سے زائد آمدن رکھنے والے اہل افراد کے لیے 5 سالہ سیٹلمنٹ کا راستہ برقرار رکھا گیا ہے۔ اسی طرح سالانہ 125,140 پاؤنڈز سے زیادہ کمانے والے مخصوص اہل افراد محض 3 سال کے اندر مستقل رہائش حاصل کرنے کے اہل ہو سکیں گے۔ صحت، تعلیم اور بعض دیگر اہم عوامی خدمات سے وابستہ پیشہ ور افراد کے لیے بھی 5 سالہ سیٹلمنٹ کا راستہ برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر کے وہ اہل ورکرز جن کی سالانہ آمدن کم از کم 25,000 پاؤنڈز ہو اور جو مقررہ ویزا شرائط پوری کرتے ہوں، وہ بھی 5 سال بعد مستقل رہائش کے حق دار ہوں گے۔ اس سے قبل مجوزہ 15 سالہ انتظار سے متاثر ہونے والے ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر کے متعدد ورکرز کو بھی 5 سالہ راستے پر برقرار رکھنے کی خصوصی رعایت دی گئی ہے۔
نئے نظام کے تحت انگریزی زبان پر مضبوط عبور، نیشنل انشورنس کنٹری بیوشنز کی ادائیگی اور ٹیکس کا شفاف ریکارڈ بنیادی شرائط ہوں گی، جبکہ درخواست گزاروں کا مجرمانہ ریکارڈ صاف ہونا اور امیگریشن قوانین کی مکمل پابندی بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔ دوسری جانب، غیر قانونی طور پر برطانیہ میں داخل ہونے والے افراد کے لیے مستقل رہائش کی مدت بڑھا کر 20 سال کر دی گئی ہے، اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر آنے والے بعض کیسز میں یہ مدت 30 سال تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، سرکاری مالی معاونت حاصل کرنے والے بعض درخواست گزاروں کے لیے شرط رکھی گئی ہے کہ وہ مستقل رہائش کی درخواست دینے سے قبل مسلسل 5 سال تک حکومتی مالی امداد سے باہر رہیں۔ ان تمام تبدیلیوں سے برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں سمیت دنیا بھر کے لاکھوں تارکین وطن براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں، تاہم پہلے سے مقیم افراد کے لیے عبوری انتظامات اور نفاذ کی حتمی تاریخ کو بھی انتہائی اہمیت حاصل ہے۔
متعلقہ عنوانات
روس اور یوکرین کے ایمرجنسی وارننگ سسٹمز پر سائبر حملے
2 November 2026
انسٹاگرام کی دوستی شادی میں تبدیل، اطالوی لڑکی پاکستان پہنچ گئی
2 November 2026
خیبر پختونخوا میں جنگلات کو آگ سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات تیز
2 November 2026
جام کمال خان کامسیک کے 42ویں وزارتی اجلاس میں شرکت کے لیے استنبول پہنچ گئے
2 November 2026
دشت ویلی میں گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت بنجر زمینیں سرسبز کھیتوں میں تبدیل
2 November 2026
اسلام آباد: مولانا فضل الرحمٰن کے گھر کی ڈرون کے ذریعے فضائی ویڈیو بنانے پر مولانا اسجد محمود کا شدید ردعمل
2 November 2026
امریکا کا ایران پر ممکنہ حملہ، متحدہ عرب امارات نے بھی پیشگی تیاری کرلی
2 November 2026
اگر آزمانا ہے تو ہاتھ لگا کر دیکھ لو، کارکن کہاں تک جاتے ہیں جانتے ہیں: مولانا فضل الرحمن
2 November 2026