LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وفاقی وزارتوں میں ایک لاکھ سے زائد آسامیاں خالی، قومی اسمبلی میں تفصیلات پیش سینیٹ نے نیب ترمیمی بل 2026 منظور کر لیا، چیئرمین کی مدت ملازمت اور اپیلوں میں اصلاحات شامل پاکستان کا بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم سپلائی معاہدے پر تشویش کا اظہار آپریشن غضب للحق کے دوران قندھار میں 205 کور کا بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ، سکیورٹی ذرائع پاکستان کی تمام بندرگاہوں کے داخلے عارضی طور پر بند کرنے کا نوٹیفکیشن جعلی قرار اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی علاج کی درخواست پر نوٹس جاری کر دیا وزیراعظم سے جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، مشرق وسطی پر اعتماد میں لیا پنجاب حکومت کا “وزیراعلیٰ رحمت کارڈ” متعارف کرانے کا فیصلہ، بیواؤں کو ایک لاکھ روپے امداد دی جائے گی آدھا رمضان گزر گیا مگر کے پی حکومت نے پیکج کی تقسیم شروع نہیں کی، عظمیٰ بخاری سپریم کورٹ کے حتمی فیصلہ کیخلاف اپیل سننے کا اختیار نہیں: وفاقی آئینی عدالت ایران کے امریکا اور اسرائیل پر تازہ حملے، 10 ڈرونز تباہ، 500 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ قطری حکام کی امریکی سفارتخانے کے قریب رہنے والوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت بھارت میں سیاسی ہلچل: ایرانی جہاز پر حملے کے بعد مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالات آبنائے ہرمز پر تناؤ اور پاسدارانِ انقلاب کا چیلنج “ایران پر حملہ نہ کرتے تو ان کے پاس ایٹم بم ہوتا”، صدر ٹرمپ کا تہران کے خلاف فوجی کارروائی جاری رکھنے کا اعلان

مشرق وسطیٰ کشیدگی: برطانیہ نے امریکا کو فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے دی

Web Desk

2 March 2026

لندن: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں برطانیہ نے امریکا کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے بیان میں کہا کہ امریکا نے فوجی اڈوں کے استعمال کے لیے باقاعدہ درخواست کی تھی، جسے قبول کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اجازت ایران کے خلاف دفاعی کارروائیوں کے تناظر میں دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ایران کو خطے میں میزائل داغنے سے روکنے، معصوم شہریوں کی جانوں کے تحفظ اور برطانوی شہریوں کو خطرات سے بچانے کے لیے کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ممالک کو بھی محفوظ رکھنا ضروری ہے جو اس تنازع میں براہِ راست شامل نہیں۔

کیئر اسٹارمر نے مزید کہا کہ خلیجی شراکت دار دفاعی تعاون کا مطالبہ کر رہے ہیں اور برطانوی جانوں کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برطانوی طیارے دفاعی کارروائیوں کے لیے فضا میں موجود ہیں اور ایرانی حملوں کو روکنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔