LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
جسٹس حسن اظہر رضوی نے بطور قائم مقام چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت حلف لیا چھاتی کے سرطان سے آگاہی کا عالمی دن، خواتین بروقت طبی مشورہ لیں: صدر و وزیراعظم کی اپیل حوثیوں کے خلاف آپریشن فجرِ یمن میں 24 گھنٹوں کے دوران 1326 حملے یورپ پرتشدد مظاہروں کی لپیٹ میں آ گیا، فرانس، اٹلی، البانیہ، پرتگال میں جلاؤ گھیراؤ آسٹرین ایئر لائنز کی پرواز میں بم کی اطلاع، طیارے کی بلغاریہ میں ہنگامی لینڈنگ قلات اور گوادر میں سکیورٹی فورسز کے آپریشنز، 4 دہشت گرد ہلاک، میجر وجاہت وحید جام شہادت نوش کر گئے ملتان  تیز رفتار کار بے قابو ہو کر ڈیوائیڈر سے ٹکرانے کے بعد دیوار سے جا ٹکرائی حادثہ میں  5 افراد جاں بحق. روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرانے کیلئے مذاکرات کر رہا ہوں: امریکی صدر حوثی باغیوں کی سعودی تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں کے قریب انخلا کی نئی وارننگ جاری یمنی افواج کی پیش قدمی جاری، شدید جھڑپیں، سناماہ اور سراری محاذوں پر کامیابی کا دعویٰ ایران کا خطے میں ڈیجیٹل ڈیٹا کی ترسیل کو کنٹرول کرنے کیلئے نیا ادارہ قائم کرنے کا اعلان روسی وزیر خارجہ آج تہران کا دورہ کرینگے، دو طرفہ معاہدوں کا جائزہ لیا جائیگا ہمیں پر امن مظاہرین اور تخریب کاروں میں فرق کرنا ہوگا: فرانسیسی صدر امریکی حکام کا مقبوضہ مغربی کنارے کے مسیحی فلسطینی گاؤں طیبہ کا دورہ امارات کی جانب سے غزہ میں 60 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان پہنچا دیا گیا

ٹرمپ کی دھمکی؛ ایران نے پلان ’بی‘ بنالیا؛ خامنہ ای کی ماسکو روانگی کا امکان

Web Desk

5 January 2026

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک میں جاری مظاہروں اور بڑھتے حکومتی دباؤ کے پیش نظر پلان بی تیار کر لیا ہے، جس کے تحت انتہائی حالات میں وہ ایران چھوڑ کر روس منتقل ہو سکتے ہیں۔ برطانوی اخبار دی ٹائمز کی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق اگر حکومت مخالف احتجاج اس حد تک بڑھ گیا کہ سیکیورٹی فورسز قابو پانے میں ناکام رہیں یا احکامات ماننے سے انکار کر دیں تو سپریم لیڈر ملک چھوڑنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای اپنے قریبی حلقے، اہل خانہ اور ممکنہ طور پر اپنے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ ماسکو منتقل ہونے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جہاں روسی حمایت اور مضبوط سفارتی تعلقات کو محفوظ سمجھا جا رہا ہے۔ ایران میں مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی، بے روزگاری اور امریکی پابندیوں کے باعث عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مظاہرے سامنے آئے ہیں۔

دوسری جانب آیت اللہ خامنہ ای مظاہروں کو فسادی قرار دے چکے ہیں اور سیکیورٹی فورسز کو سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت ردعمل کی دھمکی کے بعد ماسکو منتقلی کا پلان بی منظر عام پر آیا ہے۔