LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا کنگ چارلس سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی ملاقات، محسن نقوی سے کرکٹ اور امن پر گفتگو ایران کی نئی حکمت عملی امریکی مفادات کی بنیادیں ہلا دے گی: محسن رضائی محسن نقوی اور برطانوی وزیر مملکت اسٹیفن ڈوٹی کے درمیان اہم ملاقات ایران کے راستے غیر قانونی عراق جانیوالے 17 مسافروں کیخلاف مقدمہ درج عالمی شہرت یافتہ مصری قرّاء کرام پاکستان پہنچ گئے، وفاقی وزیر مذہبی امور کا خیر مقدم چینی صدر کی مصری ہم منصب سے ملاقات، مشرق وسطیٰ کے جامع حل پر زور آزاد کشمیر حکومت کا 100 روزہ اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کا اعلان ڈی آئی جی سی ٹی ڈی سجاد حسین حکومتی احکامات کی عدم تعمیل پر معطل لمپی سکن ڈیزیز، بروسیلا ویکسینز کا عطیہ، چینی حکومت کا تعاون قابل تحسین ہے: رانا تنویر حسین وفاقی کابینہ نے اسلام آباد میں مقامی حکومتوں کے نظام کی منظوری دے دی سندھ ہائیکورٹ کا کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت فوری ڈی سیل کر کے قبضہ درخواست گزاروں کے حوالے کرنے کا حکم میر رضا کیس: جے آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری بانی پی ٹی آئی سے رفقاء کی ملاقات کا دن، فہرست جیل حکام کے حوالے پاکستان امن عمل سے مایوس نہیں، فریقین مذاکرات کی طرف واپس آئیں گے: دفتر خارجہ

ٹیرف پالیسی کے ذریعے پاک بھارت نیوکلیئر جنگ سمیت کئی جنگیں رکوائیں: ڈونلڈ ٹرمپ

Web Desk

25 February 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور کے پہلے ‘اسٹیٹ آف دی یونین’ خطاب میں اپنی حکومت کی کامیابیوں کا نقشہ پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اپنی سخت ٹیرف پالیسی کے ذریعے پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ سمیت دنیا کی 8 بڑی جنگیں رکوائیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت نیوکلیئر تصادم کے انتہائی قریب پہنچ چکے تھے، تاہم ان کی مداخلت سے ساڑھے تین کروڑ جانیں بچائی گئیں۔ انہوں نے معیشت پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ بائیڈن دور کی بدترین مہنگائی اب کم ہو کر 1.7 فیصد تک آ چکی ہے، اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ سطح پر ہے اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے نئے عالمی تجارتی ٹیرف کے نفاذ کا اعلان کیا اور سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو ‘افسوسناک’ قرار دیا جس میں ان کے تجارتی اختیارات پر سوال اٹھایا گیا تھا۔ سرحدوں کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 9 ماہ میں کوئی غیر قانونی تارکین وطن ملک میں داخل نہیں ہو سکا اور حکومت قانونی امیگریشن کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایران کا نیوکلیئر پروگرام تباہ کر دیا ہے لیکن وہ اب بھی اس مسئلے کا سفارتی حل چاہتے ہیں۔

تقریب کے دوران ایوان میں اس وقت تلخی دیکھی گئی جب ڈیموکریٹ رکن کانگریس ال گرین کو صدر کے خلاف احتجاجی پلے کارڈ لہرانے پر سکیورٹی اہلکاروں نے ایوان سے باہر نکال دیا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب کا اختتام ان الفاظ پر کیا کہ “امریکا واپس آ چکا ہے” اور یہ ملک کی تاریخ کا “سنہری دور” ہے۔