LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
محمود اچکزئی کی وزیراعظم سے ملاقات کیلئے تیسری جگہ مقرر کرنے کی شرط مسترد لاہور میں بسنت 2027 کی تاریخیں تبدیل، نوٹیفکیشن جاری ملک بھر میں کھیلوں کے فروغ کیلئے ٹیلنٹ کو بلاامتیاز مواقع دیں گے: وزیراعظم او آئی سی اجلاس شروع، عراقی وزیراعظم کی ثالثی کیلئے پاکستان کی ستائش خطے میں کسی بھی محاذ پر لڑائی کا مطلب جنگ جاری رہنا ہے: ایران کے پی حکومت مولانا کے بغیر چلے گی اور ترقی بھی کرے گی: گورنر فیصل کنڈی او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس آج بغداد میں ہوگا، اسحاق ڈار شرکت نہیں کریں گے خیبرپختونخوا میں معدنیات کے لائسنس پی ٹی آئی ادوار میں زیادہ دیئے گئے: خواجہ آصف خلیج میں توانائی تنصیبات پر حملے پاکستانی معیشت کیلئے تشویش کا باعث ہیں: وزیر خزانہ خیبر پختونخوا میں ایکشن پلان تیار، 27 محکموں کیلئے بڑے اقدامات تجویز سرکاری عہدہ ملازمت نہیں، عوامی خدمت کا ذریعہ ہے: مریم نواز فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ: بجلی 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی تیاری مشین ریڈایبل پاسپورٹ بند، اب صرف ای پاسپورٹ جاری ہوں گے سانحہ پشاور: سکول کی عمارت ناقص تعمیر کے باعث منہدم ہوئی، رپورٹ پولیس چیف کو ارسال پاکستان نے علاقائی استحکام کے فروغ کیلئے مؤثر کردار ادا کیا: رضوان سعید

ٹرمپ کا ایران پر جلد بڑے فیصلے کا اعلان، تباہی یا معاہدے کے آپشنز زیرِغور

Web Desk

20 September 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ ایران کے حوالے سے ایک خمی اور بڑا فیصلہ کرنے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں، جس کے تحت ایران کے سامنے فوجی کارروائی، معاشی تباہی اور معاہدے سمیت متعدد راستے کھلے ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے تازہ انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن فی الوقت مختلف امکانات پر غور کر رہا ہے، جن میں ایران کو مکمل طور پر ملیا میٹ کرنا، اسے معاشی طور پر تباہ کر کے مفلوج کر دینا، یا پھر بالآخر ایک نیا اور حتمی معاہدہ کرنا شامل ہے۔

امریکی صدر نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل قریب میں مشرقِ وسطیٰ میں بہت بڑے اور اہم واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اگرچہ واشنگٹن کی جانب سے فوجی اور معاشی دباؤ میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے، لیکن دوسری جانب سفارتی بنیادوں پر بات چیت کی گنجائش بھی اب بھی موجود ہے۔ صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ وہ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ممکنہ ملاقات کے آپشن پر بھی غور کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سامنے آنے والا یہ متضاد بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی اور بحری محاصرہ شدید ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ قبل ازیں، وائٹ ہاؤس نے ایران کی معیشت کو الگ تھلگ کرنے کے لیے ‘آپریشن اکنامک فیوری’ کے تحت تاریخی و معاشی پابندیوں اور کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جبکہ دوسری جانب پینٹاگون خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور بحری بیڑوں پر ایران کے ممکنہ جوابی حملوں کے بعد ہر قسم کے دفاعی ردِعمل کی تیاری مکمل کر رہا ہے۔