حوثیوں پر حملے کی تیاری مکمل، ٹرمپ نے آخری مرحلے میں فیصلہ بدل دیا
Web Desk
21 September 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف ممکنہ بڑی فوجی کارروائی کو آخری مرحلے میں منسوخ کر دیا ہے، حالانکہ حملے کے لیے اہداف کا انتخاب مکمل تھا اور جنگی طیاروں کو مسلح کیا جا رہا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق، حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے پیشِ نظر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جمعرات کے روز صدر ٹرمپ سے رابطہ کر کے تعاون کی اپیل کی تھی، جس کے بعد پینٹاگون کو کارروائی کی تیاریوں کا حکم دیا گیا تھا، تاہم صدر ٹرمپ نے اچانک فضائی حملوں کا یہ منصوبہ روک دیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا پہلے ہی ایران کے ساتھ تنازع میں اپنے وسیع فوجی وسائل استعمال کر رہا ہے، جس کے باعث یمن میں نیا محاذ کھولنے سے امریکی افواج پر دباؤ میں اضافہ ہو سکتا تھا۔ اس کے علاوہ حوثیوں کی جانب سے عمان کی ثالثی میں طے پانے والے سابقہ سمجھوتے کے تحت امریکی بحری جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی بھی اس فیصلے کی اہم وجہ بنی۔ فی الوقت امریکا نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کی کشیدہ صورتاحال کے پیشِ نظر حوثیوں کے خلاف براہِ راست کارروائی سے گریز کرتے ہوئے سعودی عرب کے لیے صرف سفارتی و دفاعی حمایت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
متعلقہ عنوانات
وزیراعظم شہباز شریف کی کویتی ولی عہد سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق
22 September 2026
اسرائیلی حکومت ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے: اردوان
22 September 2026
ایم ون اور ایم 14 سمیت اہم شاہراہیں کل شام سے بند کرنے کا اعلان
22 September 2026
ایران کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، اب مشرق وسطیٰ میں غنڈہ گردی نہیں کر سکتا: ٹرمپ
22 September 2026
8 اسلامی ممالک کا غزہ میں فوری امداد اور اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ
22 September 2026
عالمی تقسیم تشویشناک، گوتریس کا جنگیں طاقت سے نہیں مذاکرات سے ختم کرنے پر زور
22 September 2026
امریکا کے پاس گولہ بارود کی کمی نہیں، ذخائر میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے: ٹرمپ
22 September 2026
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فرانسیسی سیکرٹری جنرل برائے دفاع و قومی سلامتی کی ملاقات
22 September 2026