LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
انتظامی یونٹس میں اضافہ پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے: خالد مقبول صدیقی امریکا شرائط مانے تو چھٹے روز آبنائے ہرمز کھلے گا، ساتویں روز مذاکرات ہونگے: ایران خیبر پختونخوا کی معدنیات عوام کی ہیں اور رہیں گی: طارق فضل چودھری اسحاق ڈار کا ایرانی اور مصری وزرائے خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا کے عوام نے انتشاری ٹولے کو مسترد کردیا: امیر مقام مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب خواجہ آصف نے یوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت بارے سوالات اٹھا دیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متنازع نہ بنایا جائے: بلاول بھٹو مالدیپ کے صدر 20 اکتوبر کو پاکستان آئیں گے، کئی معاہدے و مفاہمتی یادداشتیں متوقع امریکا کا ایران سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرنے کی قابلِ تصدیق ضمانت کا مطالبہ پنجاب میں لیب ٹاپ اور اسکالرشپ سکیم فیز ٹو کا آغاز کر دیا: عظمیٰ بخاری دانش سکول امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کرنے کی کوشش ہے: شہباز شریف وزیراعظم نے اسلام آباد میں دانش سکول کاافتتاح کردیا نجران میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، سعودی اتحادی فوج کے 2 ارکان جاں بحق مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضہ گیروں کا یورپی سفارت کاروں پر حملہ

حوثیوں پر حملے کی تیاری مکمل، ٹرمپ نے آخری مرحلے میں فیصلہ بدل دیا

Web Desk

21 September 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف ممکنہ بڑی فوجی کارروائی کو آخری مرحلے میں منسوخ کر دیا ہے، حالانکہ حملے کے لیے اہداف کا انتخاب مکمل تھا اور جنگی طیاروں کو مسلح کیا جا رہا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق، حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے پیشِ نظر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جمعرات کے روز صدر ٹرمپ سے رابطہ کر کے تعاون کی اپیل کی تھی، جس کے بعد پینٹاگون کو کارروائی کی تیاریوں کا حکم دیا گیا تھا، تاہم صدر ٹرمپ نے اچانک فضائی حملوں کا یہ منصوبہ روک دیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا پہلے ہی ایران کے ساتھ تنازع میں اپنے وسیع فوجی وسائل استعمال کر رہا ہے، جس کے باعث یمن میں نیا محاذ کھولنے سے امریکی افواج پر دباؤ میں اضافہ ہو سکتا تھا۔ اس کے علاوہ حوثیوں کی جانب سے عمان کی ثالثی میں طے پانے والے سابقہ سمجھوتے کے تحت امریکی بحری جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی بھی اس فیصلے کی اہم وجہ بنی۔ فی الوقت امریکا نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کی کشیدہ صورتاحال کے پیشِ نظر حوثیوں کے خلاف براہِ راست کارروائی سے گریز کرتے ہوئے سعودی عرب کے لیے صرف سفارتی و دفاعی حمایت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔