LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کیلئے ریڈ لائن ہے: مولانا طاہر اشرفی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز سکیورٹی فورسز کے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آپریشنز، 7 دہشت گرد جہنم واصل امریکا، اسرائیل کی ایران کو پسماندگی میں دھکیلنے کی کوشش ناکام ہوگئی: ایرانی سپریم لیڈر ٹرمپ کی ایران کو پابندیوں میں ریلیف اور منجمد اثاثوں کی پیشکش کی تردید سلامتی کونسل: پاکستان کا 1967 کی سرحدوں پر آزاد فلسطینی ریاست کے فوری قیام کا مطالبہ کلابریا ضمنی انتخاب، میلونی کی حکمران اتحادی جماعت نے اہم نشست دوبارہ حاصل کرلی اسپیس ایکس کے اسٹار شپ راکٹ نے پہلی بار زمین کے مدار میں پہنچنے کا اہم سنگِ میل عبور کر لیا المخا میں یمنی افواج کے ساتھ جھڑپوں میں 5 حوثی ہلاک، 13 زخمی برطانیہ میں دہشت گردی کے شبہ میں گرفتار 5 افراد ضمانت پر رہا غزہ میں نیتن یاہو کی پیدا کردہ تکالیف کو جائز قرار نہیں دے سکتے، برطانوی وزیر خارجہ ایران کے متعدد سابق حکومتی عہدیداران کا حکومت کو خط، این پی ٹی معاہدے سے نکلنے کا مطالبہ ٹرمپ انتظامیہ کا زائرین کی پروازیں بحال کرنے کیلئے ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ ٹرمپ جوہری پروگرام پر ٹھوس اقدامات کے بدلے ایران کو اقتصادی ریلیف دینے کیلئے تیار امریکی حکام نے آج ایران کے ثالثوں سے بات چیت کی ہے، صدر ٹرمپ

ٹرمپ کی ایران کو پابندیوں میں ریلیف اور منجمد اثاثوں کی پیشکش کی تردید

Web Desk

29 September 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان تمام میڈیا رپورٹس کی باقاعدہ تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام پر پیشرفت کے بدلے تہران پر عائد پابندیوں میں نرمی یا اس کے منجمد اثاثے بحال کرنے کی پیشکش کی ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ (Truth Social) پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ انہوں نے ایران کو کسی قسم کا ریلیف یا پیشکش نہیں دی ہے۔ انہوں نے امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایگزیوس’ (Axios) کی رپورٹ کو مکمل طور پر بے بنیاد اور غلط قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب، ایگزیوس نے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا تھا کہ تہران کی جانب سے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے کی صورت میں ٹرمپ انتظامیہ پابندیوں میں نرمی اور منجمد فنڈز کی واگزاری پر غور کر رہی ہے۔ یہ سفارتی تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قطر اور دیگر علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان رابطوں میں آبنائے ہرمز کی بحالی، امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور تیل کی فروخت سے پابندیاں اٹھانے کی شرائط رکھی تھیں، جبکہ واشنگٹن جوہری پروگرام پر حتمی اور ٹھوس یقین دہانیوں پر زور دے رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق تہران سفارتی حل کے لیے تیار ہے اور ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کے جواب کا منتظر ہے۔