LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز سے امریکی اتحادیوں کی آمدورفت مشکل بنائیں گے، ایرانی فوج کا انتباہ لنڈی کوتل اور جمرود میں سیلابی ریلے میں بہنے والے 6 افراد کی لاشیں برآمد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ہاں چوتھے بچے کی ولادت؛ نوزائیدہ بیٹے کا نام ایلک نیل وینس رکھ دیا 7 ویں این ایف سی اور آرٹیکل 160 کی وضاحت کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کر لیا ہے: مزمل اسلم اینڈی برنہم نے برطانیہ کے 59ویں وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات میں نیا سنگِ میل، اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے مالی گوشوارے طلب کر لیے امریکا سے لڑائی کے باوجود ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے: ایران پاکستان اور کینیڈا کے درمیان ترجیحی شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق عمران خان سے ملاقاتوں کا کیس: عدالت کا جیل انتظامیہ سے ریکارڈ پیش کرنے کا حکم امریکا کا بوشہر میں زیر تعمیر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر حملہ خطے کیلئے خطرناک ہے: ایران وفاقی حکومت کا کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ شہباز شریف کے ہتکِ عزت دعوے کا کیس، وکیل کی درخواست پر دلائل طلب قائمہ کمیٹیوں میں واپسی کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی کی منظوری سے مشروط عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ

امریکی صدر کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی : پاکستانی شہری مجرم قرار

Web Desk

8 March 2026

واشنگٹن: امریکی عدالت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اہم سیاسی شخصیات کو قتل کرنے کی مبینہ سازش میں ملوث پاکستانی شہری کو مجرم قرار دے دیا۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق پاکستانی شہری آصف مرچنٹ پر الزام تھا کہ اس نے ایران کی ہدایت پر امریکا میں افراد کو بھرتی کرنے کی کوشش کی تاکہ امریکی رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا سکے۔

استغاثہ کے مطابق یہ منصوبہ 2024 میں سامنے آیا تھا جس میں اس وقت کے امریکی صدر جوبائیڈن اور صدارتی امیدوار نکی ہیلی کو بھی ممکنہ ہدف قرار دیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق یہ سازش 2020 میں ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد انتقامی کارروائی کے طور پر تیار کی گئی تھی۔

امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ ملزم پر کرائے کے قاتل کے ذریعے قتل کی منصوبہ بندی اور بین الاقوامی دہشت گردی کی کوشش جیسے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔ مقدمے کی سماعت نیویارک کے علاقے بروکلین کی عدالت میں گزشتہ ہفتے شروع ہوئی تھی۔

ملزم نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اس نے ایران کی طاقتور فوجی تنظیم Islamic Revolutionary Guard Corps کے دباؤ کے تحت منصوبے میں شمولیت اختیار کی تاکہ تہران میں موجود اپنے اہل خانہ کو محفوظ رکھ سکے۔

حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ ملزم نے اپریل 2024 میں جس شخص سے رابطہ کیا تھا اس نے حکام کو اطلاع دی اور مخبر کے طور پر کام کیا جس کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔

ایران کی حکومت اس سے قبل امریکی حکام کے ان الزامات کی تردید کر چکی ہے کہ اس نے امریکی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔