LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی وفد کا امریکاسے مذاکرات کیلیے اسلام آبادآنے کاامکان، برطانوی نیوزایجنسی ایرانی رہنماعقلمندہیں توایران کا مستقبل تابناک ہوسکتاہے، امریکی صدر مذاکرات سے خطے میں امن کوفروغ ملے گا، ڈارکا ایرانی وزیرخارجہ سے رابطہ مذاکرات میں بریک تھروہواتوایرانی قیادت سے ملاقات کرنا چاہوں گا، ٹرمپ وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس، مذاکرات یقینی بنانے کاعزم امیدہے امریکا ایران مذاکراتی عمل جاری رہے گا، روس اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا مرحلہ: وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی سفیر کی ملاقات جاپان میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 7.5 ریکارڈ، سونامی کا خطرہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون: ناکہ بندی مذاکرات میں رکاوٹ ہے، روئٹرز کا دعویٰ پاک مصر مشق ’تھنڈر II‘ کامیابی سے مکمل، انسداد دہشتگردی تعاون مزید مضبوط پاکستان نے امن کیلئے کردار ادا کیا، امریکا ناقابلِ اعتماد، مذاکرات میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں: ایران چین کی بے مثال ترقی دنیا کیلئے ایک روشن مثال ہے: مریم نواز اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ: وزیر داخلہ محسن نقوی کی امریکی سفیر سے ملاقات، سیکیورٹی انتظامات پر بریفنگ ایران کا امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ، غیر ضروری مطالبات ماننے سے انکار امریکا سے مذاکرات جاری، جنگ کیلئے بھی تیار ہیں: محمد باقر قالیباف

امریکی صدر کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی : پاکستانی شہری مجرم قرار

Web Desk

8 March 2026

واشنگٹن: امریکی عدالت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اہم سیاسی شخصیات کو قتل کرنے کی مبینہ سازش میں ملوث پاکستانی شہری کو مجرم قرار دے دیا۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق پاکستانی شہری آصف مرچنٹ پر الزام تھا کہ اس نے ایران کی ہدایت پر امریکا میں افراد کو بھرتی کرنے کی کوشش کی تاکہ امریکی رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا سکے۔

استغاثہ کے مطابق یہ منصوبہ 2024 میں سامنے آیا تھا جس میں اس وقت کے امریکی صدر جوبائیڈن اور صدارتی امیدوار نکی ہیلی کو بھی ممکنہ ہدف قرار دیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق یہ سازش 2020 میں ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد انتقامی کارروائی کے طور پر تیار کی گئی تھی۔

امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ ملزم پر کرائے کے قاتل کے ذریعے قتل کی منصوبہ بندی اور بین الاقوامی دہشت گردی کی کوشش جیسے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔ مقدمے کی سماعت نیویارک کے علاقے بروکلین کی عدالت میں گزشتہ ہفتے شروع ہوئی تھی۔

ملزم نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اس نے ایران کی طاقتور فوجی تنظیم Islamic Revolutionary Guard Corps کے دباؤ کے تحت منصوبے میں شمولیت اختیار کی تاکہ تہران میں موجود اپنے اہل خانہ کو محفوظ رکھ سکے۔

حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ ملزم نے اپریل 2024 میں جس شخص سے رابطہ کیا تھا اس نے حکام کو اطلاع دی اور مخبر کے طور پر کام کیا جس کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔

ایران کی حکومت اس سے قبل امریکی حکام کے ان الزامات کی تردید کر چکی ہے کہ اس نے امریکی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔