LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
70 سالہ نورین نیازی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، عوام کو کاکروچ کی طرح ٹریٹ نہ کیا جائے: سلمان اکرم راجہ پاکستان میں ذہنی امراض کے شکار افراد کی تعداد 3 کروڑ 24 لاکھ سے تجاوز، ماہرینِ نفسیات کی شدید قلت کا انکشاف پیپلز پارٹی کے وفد کی اپوزیشن چیمبر آمد، قائدِ حزب اختلاف سینیٹ اور قومی اسمبلی سے اہم ملاقات سال 2026 کی تیسری ذیلی قومی پولیو مہم کا آغاز، 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال پرائیویٹ حج پیکجز کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش پاکستان مشرقِ وسطیٰ کشیدگی میں قابل تعریف کردار ادا کر رہا ہے: سنگاپور پیپلزپارٹی کی اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شمولیت کی دعوت آزاد کشمیر: گھر میں گیس سلنڈر دھماکے سے 3 خواتین سمیت 4 افراد جاں بحق پنجاب میں ای بزنس کا فروغ ترجیح، 4 لاکھ نوجوانوں کو ہنر مند بنا دیا: مریم نواز سپر ایل نینیو 10 ماہ میں نو لاکھ اضافی اموات کا سبب بن سکتا ہے: سائنس دان بجلی 2 روپے 56 پیسے مہنگی کرنے کی در خواست پر فیصلہ محفوظ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی محسن رضائی سے براہ راست ملاقات کی پیشکش ٹرمپ ایران کے ساتھ تنازع لامتناہی جنگ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے: جے ڈی وینس امت مسلمہ کو فرقہ واریت سے بچانے کیلئے علماء مشترکہ لائحہ عمل بنائیں: حافظ نعیم کرپٹو ایکسچینج بائنانس پر تاریخی سائبر حملہ، ہیکرز نے اربوں ڈالر کی کرنسی چرا لی

سال 2026 کی تیسری ذیلی قومی پولیو مہم کا آغاز، 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال

Web Desk

30 October 2026

اسلام آباد میں سال 2026 کی تیسری ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت ملک بھر میں ڈھائی کروڑ کے قریب بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (EOC) میں انسدادِ پولیو مہم کا افتتاح کرتے ہوئے بتایا کہ آج سے شروع ہونے والی اس مہم کے دوران ملک بھر میں 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ مہم ملک بھر کے 97 مخصوص اضلاع کو مدنظر رکھ کر انتہائی حکمت عملی کے ساتھ ڈیزائن کی گئی ہے۔ پولیو کے اعداد و شمار پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ سال 2026 میں اب تک ملک بھر سے پولیو کے 7 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں سے 5 کیسز خیبرپختونخوا اور 2 سندھ کے مختلف علاقوں سے سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جن علاقوں سے یہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، وہاں سیکیورٹی یا رسائی کے مسائل کی وجہ سے پولیو ٹیمیں بروقت نہیں پہنچ سکی تھیں۔

مصطفیٰ کمال نے زور دیا کہ پولیو ایک لاعلاج مرض ہے اور اس کا واحد علاج صرف اور صرف بار بار پولیو کے قطرے پلانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور تمام ملکی و غیر ملکی معاون اداروں کی مشترکہ کوشش پاکستان کو مکمل طور پر پولیو فری بنانا ہے، کیونکہ اس وقت دنیا کے صرف دو ممالک میں ہی پولیو وائرس باقی رہ گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم 2 نومبر سے 8 نومبر تک ملک بھر میں جاری رہے گی۔

صوبہ وار تفصیلات بتاتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پنجاب کے 13 اضلاع میں 92 لاکھ 78 ہزار بچوں کو پولیو ویکسین پلائی جائے گی، سندھ کے 20 اضلاع میں 68 لاکھ 83 ہزار بچوں، خیبر پختونخوا کے 27 اضلاع میں 48 لاکھ 8 ہزار بچوں، اور بلوچستان کے 31 اضلاع میں 22 لاکھ 17 ہزار بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 4 لاکھ 47 ہزار بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے، جبکہ گلگت بلتستان کے 3 اور آزاد کشمیر کے 2 اضلاع میں بھی بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین دی جائے گی۔