LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری خلیجی ممالک دیکھ چکے امریکی نام نہاد سکیورٹی چھتری کتنی مؤثر ہے: ایران ہماری پالیسی اسلام آباد سے آئے گی، کابل، قندھار اور جلال آباد سے نہیں: فیصل کریم کنڈی وزیراعظم کا ایس ایم ایز کیلئے قرضوں کا حجم 2028 تک 2.2 ٹریلین روپے کرنے کا حکم خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں امن و ترقی کیلئے فنڈز کی فوری فراہمی کا فیصلہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نفاذ کے خلاف سینیٹ میں قرارداد جمع صدر زرداری کی سیکریٹری خارجہ سے ملاقات، عالمی تعلقات مضبوط بنانے پر زور ترکی میں مسافر بس اور ٹرک میں تصادم، 11 افراد ہلاک، 27 زخمی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے برازیلی فوجی وفد کی ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق ایمرجنسی کا نفاذ تحریک انصاف کی ضد اور عدم تعاون کا نتیجہ ہے: طارق فضل چودھری وزیر خزانہ کی سربراہ ای ایس سی اے پی سے ملاقات، معاشی اصلاحات پر گفتگو پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس 1964 پوائنٹس گر گیا 11 اکتوبر جمہوریت کا سیاہ ترین دن، کے پی کے عوام ایمرجنسی اور گورنر راج کو مسترد کرتے ہیں: بیرسٹر گوہر علی خان ہمارا واسطہ آئین شکنوں سے ہے، حالات بلوچستان میں خراب ہیں تو وہاں ایمرجنسی لگائیں: علامہ راجہ ناصر عباس دہشت گردی پر سیکیورٹی کے ساتھ عوامی مسائل کا حل بھی لازمی

خود سیاست میں آتے ہو اور پھر ہم سے کہتے ہو کہ سیاست میں کیوں گھسٹتے ہو۔مولانا فضل الرحمن

Web Desk

21 December 2025

کراچی کے علاقے لیاری میں منعقدہ تحفظِ مدارسِ دینیہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ دینی مدارس کے خلاف منظم سازش کے تحت نوجوانوں کے دل و دماغ میں شکوک پیدا کیے جا رہے ہیں اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ مدارس نوجوانوں کی صلاحیتیں محدود کرتے ہیں، حالانکہ مدارس کے قیام کی اصل وجوہات کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں مدارس کا قیام اس وقت عمل میں آیا جب معاشرے میں دین سے دوری بڑھ رہی تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نوجوانوں کو دین سے دور کرنے کی سازش ہو رہی ہے اور آج انہیں بیرونی طاقتوں سے نہیں بلکہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں، حکمرانوں، بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ سے خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کا مجموعی نظام زوال کا شکار ہے اور دینی مدارس ہی ہیں جنہوں نے نظریاتی بنیادوں کو کسی حد تک سنبھال رکھا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے یاد دلایا کہ 2004 اور 2010 میں مدارس سے متعلق معاہدے کیے گئے مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دینی مدارس کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی اور مدارس کے تشخص اور آزادی کا ہر صورت دفاع کیا جائے گا۔