LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد کی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات، حکومتی وزراء کی جانب سے کردار کشی کی شدید مذمت یوکرین میں ریلوے اسٹیشن پر روسی ڈرون حملہ، 13 افراد ہلاک، 10 زخمی نوجوانوں کو ہنر مند بنانے اور آئی ٹی کے فروغ پر توجہ دے رہے ہیں، ملتان چیمبر آف کامرس میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا خطاب پوسٹ گریجویٹ انٹری ٹیسٹ کے نتائج کا اعلان، 2 ہزار 131 امیدوار کامیاب سپریم کورٹ بار کے انتخابات، احسن بھون گروپ کے سید امجد علی شاہ صدر منتخب ریاست کے بارے میں دیئے گئے بیانات قابل قبول نہیں: رانا ثنا اللہ پاک اقوام متحدہ کانفرنس: سیلاب اور موسمیاتی خطرات کی خلائی نگرانی پر غور گورنر خیبرپختونخوا کا قبضہ مافیا اور تجاوزات کیخلاف دو ٹوک اعلان حنا جاوید قتل کیس، آصفہ بھٹو کی اہلِ خانہ کو مکمل حمایت کی یقین دہانی میاں چنوں میں مال گاڑی کی 2 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، جانی نقصان نہیں ہوا مقامی منڈیوں میں چینی کی قیمتوں کا استحکام اولین ترجیح ہے: اسحاق ڈار ریاستی اداروں پر الزامات کا کیس، سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار سینیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کے اعداد و شمار پیش: جولائی تا ستمبر 2026 میں پٹرول کی یومیہ فروخت 21 ہزار میٹرک ٹن سے متجاوز سینیٹ میں محسن نقوی، کامران مرتضیٰ اور عابد شیر علی کے درمیان تلخ کلامی سیاسی اختلاف اپنی جگہ، ریاست مخالف باتیں کسی سیاستدان کو زیب نہیں دیتیں: محسن نقوی

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد کی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات، حکومتی وزراء کی جانب سے کردار کشی کی شدید مذمت

Web Desk

29 October 2026

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ایک اعلیٰ سطح وفد نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے امیر مولانا فضل الرحمٰن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ہے، جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور حکومتی رویے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان حسین احمد یوسفزئی پر مشتمل وفد نے حالیہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمٰن کی کی جانے والی تقریر کی بھرپور تائید و حمایت کا اعلان کیا۔ ملاقات کے دوران حکومتی وزراء کی جانب سے جے یو آئی کے امیر کی مبینہ کردار کشی کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی حملوں میں تبدیل کرنا تمام جمہوری اقدار کے منافی ہے، اس لیے سیاسی قیادت کے احترام کو ہر صورت ملحوظِ خاطر رکھا جانا چاہیے۔

ملاقات میں سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں کی ناحق قید، انہیں آئینی و بنیادی حقوق سے محروم رکھنے اور ان کے اہلِ خانہ و وکلاء کو ملاقات یا رسائی نہ دینے کے معاملے پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی پُرزور مذمت کی گئی۔ وفد اور مولانا فضل الرحمٰن نے متفقہ طور پر خبردار کیا کہ اس غیر جمہوری طرزِ عمل کے نتیجے میں اگر کوئی ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوئی تو اس کی تمام تر ذمے داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ اس کے علاوہ، ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور صوبائی صدر جنید اکبر خان کو فوری طور پر منظرِ عام پر لانے کا بھی پرزور مطالبہ کیا گیا۔